سال ‏2020 پاک افواج کے بہادر اور جری جوانوں کے نام رہا جنہوں نے نہ صرف دہشتگردی کےخلاف بھرپور مقابلہ کیا نا صرف اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا بلکہ کورونا، ٹڈی دل اور کراچی بارش جیسی آفات سے بھی کامیابی سے نمٹا، الحمداللہ2020 میں دہشتگردی کےواقعات میں 30 فیصد کمی آئی، دو خودکش حملےہوئے، 228 دہشتگردمارے گئے۔

سال 2020 میں پاک فوج نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اہم دفاعی اہداف حاصل کیے

سمندروں کی نگہبان پاک بحریہ نے سال 2020 کے دوران جنگی مشقوں کیساتھ دفاعی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا۔
مشق سی سپارک میں پاک بحریہ کے ساتھ پاکستان آرمی اور پاکستان ایئر فورس نے بھی شرکت کی۔ اسی سال دسمبر میں پاک بحریہ نے نویں مرتبہ کمبائنڈ ٹاسک فورس 151 کی کمانڈ بھی سنبھالی۔ پاک بحریہ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس جہازوں اور آلات کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

پاکستان کی سمندری حدود بالخصوص ساحلی پٹی کی نگرانی کے لیے نئے میری ٹائم پٹرول ایئر کرافٹ اور ڈرون کا اضافہ کیا گیا۔ پہلے ٹائپ 54 ایلفا فریگیٹ جہاز کی لانچنگ کے ساتھ دوسرے جہاز کی تیاری کا عمل بھی تیزی سے جاری رہا۔

رواں برس جدید ترین اور تباہ کن ہتھیاروں سے لیس دو سٹیٹ آف دی آرٹ کارویٹ جہاز پی این ایس یرموک اور پی این ایس تبوک پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل کیے گئے

میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

پاک بحریہ کے جہازوں نے 2020 میں امان، کینیا، تنزانیہ، ترکی، اردن اور سعودی عرب سمیت اہم ممالک کے دورے کیے۔ دوروں میں پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیساتھ ان ممالک کومقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے بھی آگاہ کیا گیا۔

پاک بحریہ نے پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، پاکستان کسٹمز اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ مشترکہ کاروائیوں میں اربوں روپے کی منشیات تحویل میں لیں اور کورونا سمیت قدرتی آفات میں بھی پیش پیش رہی۔

پاک نیوری نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس کے انعقاد کا سلسلہ سال بھر جاری رکھا۔

بحری معیشت سے متعلق آگاہی کے لیے پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ بحریہ یونیورسٹی ڈینٹل کالج اور ہسپتال کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ کھیل کے میدان میں پاک بحریہ نے تیسری مرتبہ نیشنل شوٹنگ چیمپنم شپ میں ٹائٹل کے دفاع کے ساتھ نیشنل سیلنگ چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کی۔

فضاؤں کی نگہبان پاک فضائیہ جس کی صلاحیتوں کا اعتراف دنیا کرتی ہے
سال 2020 کے اختتام پر جے ایف 17 تھنڈر کے 14 لڑاکا طیارے پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہو گئے پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے
جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے ہیں جو اب پاک فضائیہ کے پاس ہوں گے، ان طیاروں نے اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15، جبکہ روس کے سخوئی 27 اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور یہ بھارت کے رافیل طیاروں سے بھی بہتر ہے۔

جے ایف 17 ”بلاک 3” کا انجن زیادہ طاقتور اور آواز کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ رفتار ”ماک دو ہزار” سے پرواز کرسکتا ہے۔
اس میں خاص قسم کے کم وزن لیکن مضبوط مادّے استعمال کئے گئے ہیں جو ایک طرف اس کا مجموعی وزن زیادہ بڑھنے نہیں دیتے جبکہ دوسری جانب اسے دشمن ریڈار کی نظروں سے بچنے میں مدد بھی ملتی ہے۔
جے ایف 17 ”بلاک 3” ایسے جدید ترین ریڈار (اے ای ایس اے ریڈار) سے بھی لیس ہے جسے جام کرنا دشمن کے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کےلئے انتہائی مشکل ہے۔

پائلٹ کا ہیلمٹ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے جو طیارے کے اطراف سے بہتر واقفیت کے علاوہ ہتھیاروں پر بہترین کنٹرول کی صلاحیت میں مدد کرتا

جے ایف 17 کے جدید ماڈل کے بعد دنیا کا جدید ترین جنگی ڈرون بھی پاک فضائیہ کا حصہ بننے کو تیار، چین سے کیے گئے دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کو 50 بمبار ڈرونز موصول ہوں گے،
ڈرونز کے ذریعے سرحدوں کی نگرانی مزید موثر ہو جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافے اور بھارت کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکا اور بھارت کے درمیان جنگی ڈرونز کی فراہمی کے معاہدے کے بعد پاکستان نے بھی دوست پڑوسی ملک چین سے جدید جنگی ڈرونز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جدید ونگ لونگ 2 جنگی ڈرونز خریدے جائیں گے۔ یہ ڈرونز جدید میزائلوں اور دیگر ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر پرواز کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی برّی افواج کےلئے بنائے گئے ’’بابر کروز میزائل‘‘ میں ترامیم کے بعد اسے ’’رعد دوم‘‘ کی شکل دے دی گئی ہے جو روایتی یا غیر روایتی اسلحے سے لیس کرکے جے ایف 17 ’’بلاک 3‘‘ میں نصب کیا جائے گا
رعد دوئم 600 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے
میزائل فضا سے زمین اور سمندر پر مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کروز میزائل رعد خشکی اور سمندر کی سطح پر مار کر سکتا ہے۔ رعد میں بہت ایڈوانسڈ نیوی گیشن اور گائیڈنس سسٹم لگایا گیا ہے جو نچلی پرواز کرتے ہوئے ہدف پر ٹھیک نشانے پر پہنچتا ہے۔
یہ مزائل خصوصی طور پر بھارت کے ڈیفینس ریڈار سسٹم کا توڑ ہے جو اس نے روس سے حاصل کیا
رعد میزائل پاکستان میں اندرونی طور پر تیار کردہ ہے جس کا کامیاب تجربہ ملکی سائنسدانوں اور انجینئرز کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ کروز مزائل رعد پہاڑوں اور چٹانوں سے بچ کر چھپے ہدف تک ٹھیک ٹھیک پہنچتا ہے
سرحدوں پر باڑ لگانے کا کام اختتامی مراحل میں ہے
پاکستان کے دفاع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات میں بھی پاک افواج سینہ سپر رہی اور عوام کے شانہ بشانہ کام کرتی رہی
بےشک پاک فوج اور عوام کا رشتہ انتہائی مضبوط ہے کہ ہر آفت میں عوام کی نگاہیں پاک فوج کی جانب اٹھتی ہیں ۔
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
راجہ شوکت حسین💛🇵🇰🇵🇰🇵🇰💛

نیشنل سیکریٹ فورس آف پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں