مردان و صوابی کے سنگم پر واقع کڑاہ مار پہاڑ ۔۔

کڑاہ مار۔۔ دیو مالائی کہانیوں کی نسبت مشہور ایک تاریخی پہاڑ جو کہ ہندومت بدھ مت سورج پرستوں آتش پرستوں اور صابیوں( ستارہ پرستوں)کے لیے مقدس اور قابل احترام جبکہ مسلمان پختون خواتین بھی ماضی میں اس پہاڑ کو مقدس مان کر منت مانگنے کے لیے کڑاہ مار پہاڑی پر جاتی تھیں۔
صوابی و مردان کے سنگم پر موجود یہ پہاڑی پختون تاریخ کا ایک سنہرہ باب بھی ہے اس پہاڑی کو مرکز بناکر یوسفزئ نے مغل شہنشاہ اکبر اور اورنگزیب کے خلاف تاریخی جنگیں لڑی لیکن جیسے کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس وقت اس پہاڑی کی شہرت معروف لوک داستان۔ یوسف خان و شیر بانو کے مرکزی کردار یوسف خان کا قبر ہے لیکن کیا یہ واقعی یوسف خان کا قبر ہے یا بھیم دیوی یا نیلی دیوی کی یادگار جہاں ہزاروں سال قبل اس مقام پر اس دیوی کی قد آدم مورتی موجود تھی۔ جس کی زیارت کے لیے دور دراز ممالک سے مرد و خواتین تشریف لاتھیں۔
1500 سال قبل جب چینی سیاح ھیون سانگ اس دیوی کی زیارت کے لیے آتے ہے تو دیوی کے بارے میں یو رقم طراز ہے (پولیو شاہ شہر (گھڑی امانزئی) سے پچاس لی( دس میل) شمال مشرق کی جانب ایک بلند پہاڑ آتا ہے جس پر ایشور دیو کی بیوی کا نیلے پہتر سے تراشا ہوا ایک بت کھڑا ہے یہ بھیم دیوی ہے خوشحال طبقہ کے تمام لوگ اور پست طبقات بھی کہتے ہیں کہ یہ بت خود بخود بن گیا ہے
مشہور ہے کہ اس نے متعدد معجزات دکھائے چنانچہ سبھی لوگ اسے پوجتے ہیں ہند کے ہر گوشے سے لوگ منتیں ماننے اور خوشحالی حاصل کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں امیر وغریب دونوں دور ونزدیک علاقوں سے یہاں اکھٹے ہوتے ہیں۔ الوہی روح کا روپ دیکھنے کے خواہشمند ایمان کی معموری اور صاف دل کے ساتھ سات روز فاقہ کشی کے بعد اسے دیکھتے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کی دعائیں پوری ہوتی ہیں پہاڑ سے نیچھے میشوردیو کا ایک معبد ہے نادتک بھبھوت رمائے ہوئے یہاپ بھینٹ چڑھانے آتے ہیں)اشوک نے یہاہ تین ستوب بناے تھیں جبکہ پہاڑی پرکشان دور کی خانقاہیں بھی موجود تھی ہیون سنگ کی دیوی کا مجسمہ جہاں موجود تھا اس مقام پر یوسف خان کا قبر بھی ہے کیا یہ واقعی یوسف خان کا قبر ہے۔
تو اس سلسلے میں ہماری تحقیق یہ ہے کہ لوک داستان کے ھیرو کی موت اگر یہاں ہوئی بھی تو مقامی پختون دستور کے مطابق اسے یہاں دفن کرنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ دستور کے مطابق صرف میدان جنگ میں شہید کی لاش کو جائے شہادت پر دفن کیا جاتا ہے عام حالت میں پختون اپنے مردے کی لاش ہندوستان سے بھی لاکر اپنےمقبرے میں دفن کرتے ہے دوسری بات یہ ہے کہ اس قبر کو خزانے کی تلاش میں تین چار بار کھولا گیا اس سے کچھ نکلا یا نہیں لیکن یہ ضرور ثابت ہوا کہ قبرمیں لاش کی ہڈیاں تک نہیں میرے اور نوادرات مافیا کے درمیان چوہے بلی کا کھیل جاری رہتا ہے میں ان پارٹیوں کو جانتا ہو۔
تحقیق کے دوران میں نے اپنے ذرائع سے اس قبر کو کھودنے والی پارٹی کا سراغ لگا کر ان تک پہنچ گیا تو ان لوگوں کی انکشاف پر میں بلکل بھی حیران نہیں ہوا کہ قبر میں کوئی دفن نہیں البتہ نیچے آثار قدیمہ کی آثار موجود ہے جو دیواروں کی صورت میں ہیں۔
کڑاہ مار پر یہ قبر کب پختونوں نے دریافت کیا یہ تو معلوم نہیں لیکن کہانی تو اکبر بادشاہ کے زمانے کی ہے کہانی میں تو یوسف خان اکبر کی فوج میں اہم عہدے پر فائز تھا لیکن اکبر دور کے فوجی افسروں میں یوسف خان یوسفزئی نامی کسی خولدار تک کا ذکر نہیں دو تین یوسف کا ذکر ہے لیکن وہ پختون نہیں تھے اور نہ اس علاقے سےتھیں البتہ داستان تو داستان ہے ضروری نہیں کہ حقیقت ہو لیکن جہاں تک قبر کا تعلق ہے تو اس قبر میں یوسف خان نہیں البتہ نیلی دیوی بھیم دیوی کی یادگار ممکن ہے۔
(محقق و تاریخ دان فرہاد علی خاور)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں