یوم شہادت شہید اعتزاز حسن

شہید اعتزاز حسن بنگش جو ہنگو کے گاؤں اِبراھیم زئی کے سکول کا 15سال کا ھونھار طالب علم تھا۔اعتزاز حسن 1999 میں مجاہد علی بنگش کے گھر پیدا ہوا۔

اعتزاز حسن نے 6جنوری2014 کو اس وقت خود کش حمله آور کو روکا جب وه سکول میں اسمبلی کے وقت خود کش حمله کرنے کے لیے سکول میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا.

اس وقت سکول کی اسمبلی میں تقریبا دو ھزار طلبه اور اساتذه موجود تھے.مگر اعتزاز اپنی جان کی پروا کیے بغیر حمله آور پر جھپٹا۔ گبھرا کر حمله آور نے خود کو اسکول کے گیٹ پر ھی آڑا لیا ۔اس طرح ھزاروں طلبا کو نشانہ بنانے کے لیے آنے والا جھنم واصل ھوا اور اعزاز حسن درجہ شہادت پاکر دنیا اور آخرت کی عزت وکامیابی سے ھمکنار ھوا.کیونکه اس نے اپنی جان کا نذرانه پیش کرکے ھزاروں زندگیوں کو بچایا۔

اسے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قومی ھیرو قرار دیا.حکومت پاکستان نے سب سے بڑے قومی سول اعزاز تمغہء شجاعت سے نوازا ۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی 12 جنوری 2014 کو شہید اعتزاز حسن کے اہل خانہ کے لئے امدادی فنڈ کا اعلان کیا ۔
اتنی کم عمری میں اتنا بڑا اعزاز لینے کا ریکارڈ قائم کرنے والا یه پہلا طالب علم ھے اس شہید کی جرأت کو پوری قوم سلام کرتی ھے.

اعتزاز حسن کو اپنی فیس بک آئی ڈی کے ذریعے بھی خراج تحسین پیش کرکے وطن دوست اور علم دوست ھونے کا حق ادا کریں.❤️🇵🇰❤️راجہ شوکت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں