حافظ محمد سعید

پروفیسر حافظ محمد سعید پاکستان کی مذہبی و فلاحی جماعت جماعة الدعوة کے بانی امیر ہیں۔ قومی سطح کے معاملات میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان میں توانا آواز رکھتے ہیں۔

دفاع پاکستان کونسل میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں۔ آپ قرآن کے حافظ اور علوم اسلامیہ پر دسترس رکھتے ہیں۔ لاہور کی معروف جامعہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور میں شعبہ اسلامیات کے پروفیسر اور سربراہ رہ چکے ہیں۔ لاہور کے چوبرجی چوک میں واقع جامع مسجد القادسیہ میں ماہ رمضان کے دوران قرآن مجید کی تفسیر بھی بیان کرتے رہے ہیں۔

آپ ریاض، سعودی عرب کے معروف تعلیمی ادارے کنگ سعود یونیورسٹی سے عربی ادب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور گولڈ مڈل کے حامل ہیں۔ سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبد العزیز بن باز کے براہ راست شاگرد بھی ہیں[1]۔ آپ نے سعودی عرب سے واپسی پر 1980ء کے عشرے میں دعوت دین کی بنیاد پر لاہور سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

ابتدائی زندگی

تعلیم

آپ 1970ءکے عشرے میں ”اسلامی نظریاتی کونسل“ کے رکن بھی بنے۔ آپ نے اس ادارے کے اشتراک سے ”حدود“ پر ایک معلوماتی مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ تعلیم، فکری تصورات اور قومی و بین الاقوامی سطح کے معاملات پر سیکڑوں مضامین پاکستان کے موقر جریدوں اور اخبارات میں لکھ چکے ہیں[5]۔

عملی زندگی ترميم

حافظ محمد سعید نے دعوت دین اور رفاہ عامہ کے سلسلے میں ”مرکز الدعوة والارشاد“ کے نام سے 1986ءمیں ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ اسی نام سے سعودی عرب میں بھی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہا ہے۔ حافظ سعید اس ادارے کی سرگرمیوں سے متاثر تھے۔ سعودی عرب میں سکونت کے دوران اس ادارے کا قریب سے مشاہدہ کیا اور پاکستان واپسی پر اسی نام سے دعوت دین کا کام شروع کیا۔ اس سلسلے میں ماہنامہ میگزین ”الدعوة“ کا اجرا بھی کیا۔ مرکز الدعوة والارشاد کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے اور تعلیمی ادارے بنائے گئے[6]۔ حافظ محمد سعید نے ابتدا میں زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات پر مرکوز رکھی۔ لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم ”مرکزطیبہ“ کو دعوتی، تعلیمی و رفاہی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔

جماعة الدعوة کا قیام

حافظ محمد سعید کا تعلیم، تدریس، تحقیق اور تبلیغ کے علاوہ دوسرا بڑا کام رفاہ عامہ کے لیے کردار تھا۔ آپ نے سیلاب اور قدرتی آفات کے موقع پر مرکز الدعوة والارشاد کے تحت خدمت خلق کا وسیع پیمانے پر کام کیا۔ 1990ءکے عشرے میں فلاحی کام کا دائرہ کار وسیع ہونے پر آپ نے ”مرکز الدعوة الارشاد“ کو ”جماعة الدعوة“ میں بدل دیا۔ اس دوران آپ کے احباب اور رضاکاروں کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد کشمیریوں نے علم جہاد بلند کر دیا تھا۔ حافظ محمد سعید مظلوم کشمیریوں کے لیے شروع دن سے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور ان کی اخلاقی و سیاسی مدد کے قائل ہیں۔ ان ایام میں مقبوضہ کشمیر میں سرگرم جہادی تنظیم ”لشکر طیبہ“ وجود میں آچکی تھی۔ یہ تنظیم 1993ءسے مقبوضہ کشمیر میں فعال ہے اور قابض بھارتی افواج کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وقت کے ساتھ اس تنظیم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں جماعة الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید کے کشمیر کاز سے جڑے رہنے کے باعث اور جماعة الدعوة و لشکر طیبہ کا اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق ہونے کی بنا پر ان دونوں تنظیموں کو ایک ہی خیال کیا جانے لگا۔ اسی نسبت سے پاکستان میں حافظ محمد سعید لشکرطیبہ کے امیر معروف ہوئے۔ حالانکہ حافظ سعید کبھی لشکر طیبہ کی امارت پر فائز نہیں ہوئے۔ آپ جماعة الدعوة کے امیر ہی رہے ہیں۔ دسمبر2001ءمیں بھارت کے پارلیمنٹ ہاﺅس پر مسلح حملے کے بعد جب جنوری2002ءمیں پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے قبل دسمبر2001ءمیں ہی حافظ سعید نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران لشکر طیبہ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا[7]۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری اعجاز احمد نے بھی نومبر2002ءمیں اپنے فیصلے میں جماعة الدعوة اور لشکر طیبہ کو دو الگ تنظیمیں قرار دیا تھا اور حافظ محمد سعید کا کشمیری جہادی تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق ثابت نہ ہونے کی تصدیق کی تھی[8]۔

رفاہ عامہ کے میدان میں کردار

حافظ محمد سعید کا ادارہ مرکز الدعوة و الارشاد اور بعد ازاں جماعة الدعوة کے سماجی کردار کا ایک اہم پہلو دکھی انسانیت کی خدمت ہے۔ آپ نے بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب ہر ضرورت مند کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ رفاہی سرگرمیوں میں اضافے کی خاطر حافظ محمد سعید نے اول ادارہ ”خدمت خلق جماعة الدعوة“ کی بنیاد رکھی۔ اکتوبر2005ءمیں آزاد کشمیر اور صوبہ خیبر پختون خوا کے ہزارہ ڈویژن میں ہولناک زلزلے کے بعد حافظ سعید کے ادارہ خدمت خلق جماعة الدعوة نے متاثر کن کردار کیا تھا[9]۔ جسے نہ صرف حکومتی سطح پر پزیرائی ملی، بلکہ اقوام متحدہ نے بھی جماعة الدعوة کے رفاہی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے ادارے کے اعزاز میں اعترافی سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ اُس وقت کے آرمی چیف اور صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے میڈیا انٹرویوز میں متعدد مرتبہ 2005ءکے تباہ کن زلزلے میں جماعة الدعوة کے رفاہی کردار کو سراہ چکے ہیں[10]۔ بعد ازاں جماعة الدعوة نے اپنے فلاحی نیٹ ورک میں مزید توسیع کرتے ہوئے ”فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن“ کی بنیاد رکھی۔ جس نے سوات آپریشن 2009ءکے موقع پر بے گھر متاثرین کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ حصہ لیا۔ 2010ءمیں ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے موقع پر فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے خدمت خلق کی نئی مثالیں قائم کر دیں۔ متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ تیار خوراک، ادویات، میڈیکل کیمپنگ اور خشک راشن کی تقسیم وسیع پیمانے پر کی گئی۔ بعد میں خیبر پختون خوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں آنے والے پے درپے سیلابوں میں بھی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے رضاکاروں نے حافظ محمد سعید کی ہدایات پر متاثرین کی بڑھ چڑھ کر امداد کی۔ اسی طرح 2013ءمیں بلوچستان کے اضلاع آواران اور ماشکیل میں آنے والے زلزلوں میں بھی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کا کردار مثالی رہا۔ 2015ءکے چترال زلزلے کے علاوہ وزیرستان آپریشن کے متاثرین کی امداد میں بھی حافظ محمد سعید کی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پیش پیش رہی۔ سندھ کے صحرا تھرپارکر میں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے وسیع پیمانے پر فلاحی سرگرمیاں سر انجام دیں۔ تھر اور بلوچستان میں پانی کی دستیابی کے لیے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے بنائے گئے واٹر پراجیکٹ کی تعداد 1200 سے زائد ہے۔ حافظ محمد سعید نے اپریل2014ءمیں قحط سالی کے ایام میں تھر کا دورہ بھی کیا تھا۔ جہاں انہوں نے متاثرین میں راشن اور تحائف کی تقسیم کے علاوہ تھرپارکر کے ضلعی صدر مقام مٹھی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا، جس میں تھر کی ہندو برادری نے بھی بڑے پیمانے پر شرکت کی اور ان کے نمائندے نے حافظ محمد سعید کے ادارے کی بلا امتیاز خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا[11]۔

تعلیم کے میدان میں کردار

حافظ محمد سعید تعلیمی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آپ عرصہ پچیس سال یونیورسٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی میں شعبہ تدریس سے وابستہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ سعید نے جماعة الدعوة کے پلیٹ فارم سے بھی تعلیم کے فروغ، اداروں کے قیام اور رسائل و جرائد کے اجرا پر خصوصی توجہ دی۔ مرید کے میں قائم ”مرکز طیبہ“ کو ایجوکیشنل کمپلیکس کا درجہ دیا۔ جہاں علوم اسلامیہ کی ترویج کے لیے جامعہ الدعوة کے علاوہ عصری علوم کے فروغ کے لیے الدعوة ماڈل اسکول اور سائنس کالج بھی قائم کیا۔ جماعة الدعوة کے شعبہ تعلیم نے ملک بھر میں ساڑھے تین سو سے زائد اسکول او ر کالج قائم کیے۔ الدعوة اسکولنگ سسٹم نے لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی اور ان کے لیے علاحدہ اسکول اور انٹر میڈیٹ کالج قائم کیے۔

صحت کے میدان میں کردار

حافظ محمد سعید کے قائم کردہ ادارے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے صحت کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں ڈسپنسریوں اور فیلڈ اسپتالوں کے قیام کے علاوہ ملک بھر میں FIFایمبولینس سروس کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ کراچی،لاہور، فیصل آباد، مرید کے، گوجرانوالہ، حیدرآباد، تھرپارکر اور بالاکوٹ میں فیلڈ اسپتال قائم کیے گئے۔ اسی طرح قدرتی آفات اور سانحات کے موقع پر ملک بھر میں مفت طبی کیمپوں کا انعقاد بھی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے اہداف میں شامل رہا۔ ضرورت مندوں کو خون عطیہ کرنے کے لیے ”المدینہ بلڈ بینک“ کا قیام اور ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل اسٹاف کی تربیت کے لیے ”مسلم میڈیکل مشن“ کے نام سے ادارے کی بنیاد بھی رکھی۔

دفاع پاکستان کونسل میں کردار
حافظ محمد سعید نے قومی سطح کے معاملات میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 2011ءمیں جب امریکا نے افغانستان سے متصل خیبر پختون خوا میں پاکستان کے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا،

تو پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت نے مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں ”دفاع پاکستان کونسل“ کی بنیاد رکھی۔ جس میں 40 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔ جماعة الدعوة اس کونسل میں اہم اکائی کے طور پر شامل ہوئی۔ دفاع پاکستان کونسل نے افغانستان میں متعین نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے سپلائی کی فراہمی کے خلاف پرزور تحریک چلائی۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے کیے گئے۔ جولائی2012ءمیں لاہور سے اسلام آباد لانگ مارچ بھی کیا گیا۔ اسی طرح کوئٹہ سے چمن بارڈر اور پشاور سے طورخم بارڈر تک مارچ بھی اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔

ان تمام مہمات میں حافظ محمد سعید اور ان کے کارکنان پیش پیش تھے۔ تجزیہ کاروں نے دفاع پاکستان کونسل کی مہمات میں جماعة الدعوة کے کارکنان کو اس کونسل کی اصل قوت قرار دیا[12]۔ دفاع پاکستان کونسل نے 2012ءمیں اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے خلاف بھی تحریک چلائی تھی اور حکومت کو اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں اور کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی دفاع پاکستان کونسل کی مہمات میں حافظ محمد سعید اور جماعة الدعوة کے کارکنان کا اہم کردار رہا ہے۔ اس کے علاوہ حرمت رسولﷺ، حرمت قرآن، تحفظ حرمین شریفین اور تحفظ قبلہ اول کے سلسلے میں ملک بھر میں زبردست مہمات کا سہرا بھی حافظ محمد سعید کے سر جاتا ہے۔

پارلیمانی سیاست کے لیے کوششیں

حافظ محمد سعید ابتدا میں جمہوری سیاست سے کنارہ کش رہے۔ تاہم 2018ءکے عام انتخاب سے قبل آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کے مرکزی دھارے کی سیاست میں شمولیت اختیار کرکے ملک و قوم کے لیے مزید بہتر کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ اس غرض سے اگست2017ءمیں اسلام آباد میں مفسر قرآن سیف اللہ خالد کی صدارت میں ”ملی مسلم لیگ“ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس جماعت نے ستمبر2017ءمیں لاہور کے حلقے این اے120 سے ضمنی انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لیا۔ واضح رہے یہ نشست سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پانامہ اسکینڈل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں میںان کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ مذکورہ نشست پر ضمنی انتخاب میں ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار محمد یعقوب شیخ تھے۔

اگرچہ انتخاب کے نتیجے میں ملی مسلم لیگ نشست جیت نہ سکی، تاہم قلیل مدت میں اور وسائل کی کمی کے باوجود زبردست انتخابی مہم چلانے اور پاکستان کی بعض قومی سطح کی جماعتوں کے امیدواروں کو پچھاڑنے پر سیاسی مبصرین اس جماعت کی کارکردگی پر حیران تھے۔ ملی مسلم لیگ نے 2018ءکے عام انتخابات میں ملک بھر سے 260 امیدواروں کومختلف قومی و صوبائی حلقوں سے نامزد کیا تھا۔ یاد رہے الیکشن کمیشن میں بیرونی دباﺅ کی وجہ سے رجسٹریشن سے محرومی کے سبب ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار پہلے سے رجسٹرڈ ”اللہ اکبر تحریک“ کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدا ن میں اترے تھے[13]۔ مذکورہ انتخابات میں بھی ملی مسلم لیگ کوئی نشست نکال نہیں سکی، لیکن ان انتخابات میں ساڑھے4 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرکے ملی مسلم لیگ نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا اور اس تاثر کو بھی زائل کیا کہ حافظ محمد سعید اور تب ان کے کارکنان مرکزی دھارے کی سیاست سے گریزاں ہیں۔۔I♥️
ملی یوتھ ونگ فیصل آباد
👇🏻👇🏻👇🏻
*❤ *صداقتوں کے پاسباں بنے رھو مجاہدو ✌🏻🤝🏻👊🏻💪🏻⚔️🗡️🔪🇵🇰*
🌹 گروپ اللہ کے سپاہی🌹
نَصْرٌ مِّنَ اللّـٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ°
👇🏻👇🏻👇🏻
*👮🏻 دعاگو ایڈمن بھائی عبدالرحیم وٹو رہنما ملی مسلم لیگ فیصل آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں