پریس ریلیز جنوری 14

نیب ریفرنس کا خیر مقدم کرتا ہوں، سرخرو ہوں گا۔ سبطین خان
ہائیکورٹ کا فیصلہ میری پاکدامنی کی گواہی ہے۔ وزیر جنگلات
مائننگ کمپنی بارے جواب شہباز شریف سے پوچھا جائے۔ صوبائی وزیر کی میڈیا سے گفتگو


صوبائی وزیر جنگلات سردار محمد سبطین خان نے اپنے خلاف نیب ریفرنس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب ریفرنس پر مطمئن ہوں اور چاہتا ہوں جلد دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے۔ کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچے اور عوام کو حقیقت کا پتہ چل سکے۔ یہ بات انہوں نے احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں پرویز الہی کی کابینہ میں بطور وزیر شامل تھا تب یہ کیس نہیں بنا تھا اور نہ ہی سمری منظور ہوئی تھی۔ یہ سمری نگران دور حکومت میں منظور ہوئی اور نگران وزیر اعلیٰ نے اس کی منظوری دی۔ اس وقت میں وزارت میں نہیں تھا جبکہ ایگریمنٹ لکھے جانے کے دوران بھی میں اپنی الیکشن مہم میں مصروف تھا۔ سمری منظوری کی تاریخ بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔ سبطین خان نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ کا میرے حق میں 20 صفحات پر مشتمل فیصلہ کیس ختم ہونے کا اشارہ تھا۔ اس کے باوجود دوبارہ ریفرنس میں مجھے ملوث کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے عدالتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کیس میں تھرڈ امپائر تھا جسے پیڈ پہنا کر اوپنر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ میرا دامن صاف ہے۔ مجھے عدالتوں پر پورا یقین ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائننگ کمپنی شہباز شریف نے بنائی تھی لہذا وہی اس پر جواب دے سکتے ہیں جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ میرے دور تک قومی خزانے کو ایک روپے کا بھی نقصان نہیں پہنچا، اس لئے اس ریفرنس کا کوئی جواز بھی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں