پاکستان ہمارا گھر ہے، تحریر اسرار خان

اکثر سوشل میڈیا پر موجود گمنام پاکستانی بہن بھائی جب اپنی صلاحیتوں کے مطابق اور اپنے زیر اثر وسائل کو بروئے کار لاکر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اس سرزمین پاکستان کا دفاع کرتے ہیں۔
اور سرحدوں پر پہرا دینے والے خوبرو نوجوان اس مٹی کے بندوں کی اور دشمنوں کے صفوں میں گھس کر گمنام حلیے اپنائے لاوارثوں کی زندگی گزار کر اس وطن عزیز کی خاطر اور وطن عزیز میں رہنے والے ہر شہری کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے والے وطن کے بہادر سپوتوں کا دفاع کرتے ہیں اور عوام الناس میں ان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں۔
تب خود کو عقل کل کہنے والے اور خود کو اہل علم سمجھنے والے اور چار الفاظ لکھ کر خود کو کالم نگار اور فلاسفر سمجھنے والے اور کسی عقل مند کی دانشمندانہ باتیں کاپی کرکے خود کو دانشور سمجھنے والے کچھ نادان بھائی فورا سے ان گمنام بہن بھائیوں پر اور سرحدوں پر معمور فوجی جوانوں پر فتوے صادر کرتے ہیں کہ تم وطن پرست ہو۔ تم اللہ کی زمین کو تقسیم کرکے اپنی ملکیت سمجھتے ہو اور سرحدوں پر اسلام دشمنوں سے لڑتے لڑتے شہید ہونے والے ہمارے جوان شہید نہیں اور نہ ہی وہ سب جنت میں جائیں گے وغیرہ۔۔

ان سب دانشوران سے بس ایک بات کا جواب چاہتا ہوں۔
آپ سب اپنے گھر کو اپنی ملکیت کیوں سمجھتے ہو؟۔ اللہ کی زمین کو تقسیم کرکے ناحق اپنا قبضہ جمائے آپ سب اور آپ کے آباؤ اجداد اپنی زمینوں اور جائیداد کو اپنی ملکیت کیوں سمجھتے ہو؟
اللہ کی زمین کے اس ٹکڑے پر آپ اور اپ کے آباؤ اجداد کیوں کسی اور کو اپنا گھر بنانے نہیں دیتے؟۔ کیوں کسی اور کو اپنی نسل زمین کے اس ٹکڑے پر آباد نہیں ہونے دیتے؟۔
اور اگر کوئی زمین کے اس ٹکڑے پر زبردستی آباد ہونا چاہے یا ان پر قبضہ کرنا چاہے تو کیوں آپ اور اپ کے آباؤ اجداد خون ریزی پر اتر آتے ہو؟ کیوں ہتھیار اٹھا کر ان زمینوں کی حفاظت کی خاطر اپنی نسلیں تباہ کرتے ہو؟۔
یقیناً ان سب کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے۔
بس جب خود پر بات آئے گی تو ایک اور فتویٰ دیں گے کہ وہ تو ہماری ہے اللہ کی طرف سے ہمارے حصے میں آئی ہے وغیرہ۔۔

ارض پاکستان ہمارا گھر ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے حصے میں آیا ہے۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنا کر ہی ہم اپنے اس وطن سے محبت کرتے ہیں۔
جیسے ایک گھر بھائیوں کے ہونے سے بنتا ہے ویسے ہی ہمارا گھر پاکستان۔۔۔ بھائیوں (پنجاب، بلوچستان، پختونخواہ، کش میر، سندھ، گلگت بلتستان) کے ملنے سے بنا ہے۔۔
اب رہی بات اللہ کی زمین کو تقسیم کرنے کی۔ اور اللہ کے زمین پر اللہ کا نظام رائج کرنے کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنی زمین پر اپنا نظام رائج کرنے کے لیے مسلمان کو اختیار دیا ہے کہ وہ زمین کے چپے چپے پر اللہ کا نظام رائج کریں۔
اس نظام کو رائج کرنے کے لیے مسلمانوں کو روئے زمین پر ایک مرکز کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر سب سے پہلے اس مرکز کی تعمیر و ترقی کے لیے لائحہ عمل تیار ہوتا ہے تاکہ شروعات زمین کے اس ٹکڑے سے کیا جائے اور وہاں اللہ کا نظام رائج ہو۔ اس کے بعد مسلمان اس مرکز سے باہر روئے زمین کے ہر حصے پر اللہ کا نظام رائج کرنے لیے لائحہ عمل تیار کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرنے کے لیے آہستہ آہستہ آگے بھڑتے ہیں۔
پاکستان زمین کے اس خطے پر موجود مسلمانوں کا مرکز ہے۔ اللہ کا نظام یہاں سے رائج ہوگا اور پھر پوری دنیا میں پھیلے گا۔۔۔
ان شاءاللہ

آومحبتیںبانٹیں

پاکستانزندہآباد

افواجپاکستانزندہ_اباد

اسلامزندہاباد

تحریر:- اسرار خان

زکوٹہ_جن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں