تلخیاں، علی احمد ڈھلوں

تلخیاں
اپوزیشن تحریک : چند سوالات جواب طلب !
علی احمد ڈھلوں
پاکستان کی تاریخ میں اکتوبر کا مہینہ ہمیشہ سیاسی سرگرمیوں کا محور رہا ہے، ایسا موسم کی بنا پر تو نہیں مگر اتفاق ضرور کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ اسی مہینے کئی اندوہناک واقعات بھی ہوئے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہونے چاہیے تھے، مثلاََ اکتوبر 1947میں کشمیر پر’قبائیلیوں‘ نے چڑھائی کی اور اس کے نتیجہ میں ریاست کے مہاراجہ کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے پروانے پر دستخط کیے۔ اسی مہینے کی 16تاریخ 1951کو خان لیاقت علی خان کو قتل کر دیا گیا، پھر 24اکتوبر 1954میں ملک میں جمہوریت پر پہلا وار ہوا،اس وقت ہوا جب گورنر جنرل غلام محمد نے فوج کے بل پر دستور ساز اسمبلی توڑ ی۔ پھر پہلا مارشل لاء7اکتوبر 1958ءکو لگایا گیا، پھر 18اکتوبر 2007ءکو سانحہ کارساز ہوا جس میں 200سے زائد سیاسی کارکن شہید ہوگئے جو محترمہ کے استقبال کے لیے پہنچے تھے۔ پھر 12اکتوبر 1999ءمیں تیسرا مارشل لاءلگا دیا گیا، جسے پاکستان نے مشرف کی ڈکٹیٹر شپ میں ایک دہائی تک جھیلا۔ یہ مہینہ سندھ کے ایک درویش گورنر اور سماجی کارکن حکیم محمد سعید کی شہادت کا بھی ہے جنہیں17اکتوبر 1998کو کراچی میں ان کے مطب کے سامنے نامعلوم افراد نے شہید کردیا۔پھر مولانا اعظم طارق بھی اسی مہینے شہید ہوئے تھے۔ اور تو اور اسی سال کے اسی مہینے میں تین بار کے وزیر اعظم کو عدالتوں نے اشتہاری قرار دیا۔
اور اب اسی مہینہ میں حال ہی میں قائم ہونے والے حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM)کے پلیٹ فارم سے تحریک کا آغاز کیا جارہا ہے جس کا پہلا جلسہ16اکتوبر کو گوجرانوالہ، 18اکتوبر کو کراچی، پھر 25اکتوبر کو کوئٹہ ،22 نومبر کو پشاور، 30 نومبر کو ملتان اور 13 دسمبر کو لاہور میں ہو گا۔ یہ جلسے کسی تحریک کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ نہیں یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے مگر یہ طے ہے کہ ان کی کامیابی یا ناکامی میں حکومت کا حصہ شامل ہوگا۔ اگر تحریک کے لئے مہنگائی کا ڈیزل حکومت مہیا کرتی رہی اور زور زبردستی کی تو وہ خود ہی اس کو کامیاب کروا دے گی۔ورنہ عوام جانتے ہیں کہ کون کتنا سچا ہے کو ن کتنا جھوٹا، اور سب سے اہم یہ کہ کون کس مفاد کی خاطر جلسے جلوسوں پر زور دے رہا ہے۔ بقول شاعر
چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ
لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ
خیر میں نے کچھ دن قبل ایک سیاسی کالم لکھا تھا جس میں اس جانب اشارہ کیا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کے لیے فضل الرحمن ہی بچتے ہیں کیوں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی ساری قیادت کھڈے لائن لگی ہوئی ہے۔ اور ویسے بھی ن لیگ نے ہمیشہ مولانا کا ساتھ اسی لیے دیا ہے کہ انہیں مذہبی ”ٹچ“ مل جاتا ہے، جنہیں وہ استعمال کرنا خوب جانتے ہیں۔ البتہ آج وہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ بن گئے ہیں اور نام نہاد تحریک کے ”احتجاجی مرحلے“ کو سپروائز کرنا چاہ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی اس تحریک کے سربراہ کے حوالے سے موجودگی میں پرتشدد واقعات کا خدشہ ہر وقت رہے گا۔ مولانا کے ہوتے ہوئے حکومت کو آخری حربہ پہلا قدم سمجھ کر حکمت تیار کرنا ہو گی۔ ویسے تو اس تحریک کے اغراض و مقاصد کچھ اور ہیں لیکن جس ماحول میں اس تحریک کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑ اہدف جمہوریت کا تسلسل ہی ہو گا۔ جمہوریت بچانا حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ پی ٹی آئی اس میں کامیاب ہوتی ہے یا ناکام رہتی ہے اس کا فیصلہ وقت کرے گا لیکن اس کے سامنے سب سے مشکل ہدف نظام کو بچانا ہے۔ دوسری طرف پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ ہے اس کا واحد مقصد ملک میں مارشل لاءکا راستہ ہموار کرنا ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اور مولانا فضل الرحمٰن جیسے پرتشدد سوچ کے حامل سیاست دان کو تحریک کی سربراہی سونپنا آنے والے دنوں میں غیر معمولی اقدامات کے لیے راستہ ہموار کرنے کی واضح دلیل ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات سنجیدہ انداز میں زیر بحث ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ ملک میں ایک اور مارشل لاءکا راستہ ہموار کر رہی ہے۔
اور پھر شاید مجھے یہ سوال پوچھ لینا چاہیے کہ اپوزیشن جماعتیںاحتجاج کس کے خلاف کر رہی ہیں؟ اس سسٹم کے خلاف جو ان جماعتوں نے خود ہی ترتیب دیا ہے، یا اس حکومت کے خلاف جو گزشتہ کئی دہائیوں کا گند صاف کر رہی ہے، یا الیکشن کمیشن کے خلاف جو انہوں نے خود ہی بنایا ہے، یا الیکشن رولزکے خلاف جو انہوں نے خود ہی بنائے ہیں،یا نیب کے خلاف جس کا چیئرمین انہوں نے خود لگایا ہے، یا آرمی چیف کے خلاف جن کا انتخاب انہوں نے خود کیا ہے، یا سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف جو ان کے بنائے ہوئے ضابطے کے مطابق ہی چیف جسٹس بنتے ہیں اور یا الیکشن میں دھاندلی کے خلاف جو ان کی خود کی ایجاد کر دہ ہے۔ الغرض کس چیز کے خلاف احتجاج کا آغاز کر رہے ہیں؟ اور پھر ایک چھوٹا سا سوال یہ بھی بنتا ہے کہ نیب اگر آپ کے اثاثوں کی چھان بین کر رہی ہے تو آپ اُسے کرنے دیں، اور پھر سادہ سی بات ہے کہ اگر آپ کی کمائی 10ہزار روپے ہے اور خرچ آپ 10لاکھ روپے ہوں گے تو ادارے آپ سے کیوں نہ پوچھیں کہ اضافی پیسے کہاں سے آرہے ہیں۔ اور پھر دونوں بڑے سیاسی خاندانوں کی حالت بھی پہلے سے 1000فیصد بہتر ہے، 80کی دہائی میں شریف خاندان کا شمار پاکستان کے 100امیر ترین خاندانوں میں سے بھی نہیں ہوتا تھا، جبکہ زرداری خاندان کا شمار ہزار امیر ترین خاندانوں میں سے بھی نہیں ہوتا تھا۔ بس اتنی سی بات بتا دیں کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن کی وجہ سے آپ امیر ترین خاندان بن گئے، جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ ذرائع کیا ہیں تو یہ فرماتے ہیں کہ حکومت خود پتہ کرلے، بھئی حکومت کیوں پتہ کرے آپ خود بتا دیں، کیوں کہ ہر ہر ٹھیکے یا پراجیکٹ میں باقاعدہ حصے طے ہوتے تھے، جن کا کوئی بھی حساب نہیں لے سکتا؟ اور ویسے بھی بھلا کمیشن کا کونسا ریکارڈ ہوتا ہے؟
اور ریکارڈ سے یاد آیا کہ ہمارے پاس ریکارڈ موجود کون ساہے؟ سبھی ریکارڈ تو ہم نے جلا دیے۔ اور یہ ریکارڈ وغیرہ کو آگ ن لیگ کے دور میں ہی زیادہ لگتی ہے، بورڈ آف ریونیو، ایل ڈی اے، ضلع کچہری وغیرہ سبھی گزشتہ دور حکومت ہی کے شاہکار ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ آج تک ان ریکارڈز کو آگ لگنے کے حوالے سے کسی قسم کی بھی شفاف انکوائری بھی نہیں کی گئی۔ پھر لوٹ مار کی زمینیں انہی کے ایم این اےز اور ایم پی ایز سے ہی واگزار کروائی گئی ہیں۔ خیر بات کہیں کی کہیں نکل گئی، واپس آتے ہیں جلسے جلوسوں کی طرف تو یقینا یہ جمہوریت کا حسن ہوا کرتے ہیں۔ لیکن یہ عوامی طاقت کے ساتھ ہوں تو یہ ملک میں مثبت سرگرمیوں کو جنم دیتے ہیں لیکن اگر پس پردہ حقائق کچھ اور ہوں تو یہ اُلٹا گلے پڑ جاتے ہیں۔ اور رہی بات مولانا صاحب کی تو مولانا جب حکومت میں ہوتے ہیں تو کسی کو کچھ نہیں کہتے اپنے حصے کا حلوہ اکٹھا کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور جب وہ حکومت میں نہیں ہوتے ہیں تو کسی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ان دنوں بھی مولانا فضل الرحمٰن کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ وہ اپنے حصے کا حلوہ لینے سڑکوں پر ہیں اور اگر حلوہ نہیں ملتا تو دیگ الٹانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ یہ حالات عوامی ردعمل سے مشروط ہیں اگر عام آدمی سڑکوں پر نکلا، مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے مدارس کے طلباءکو اس سیاسی تحریک کا حصہ بنایا تو یقیناً حالات بے قابو ہوں گے اور فسادات پھوٹنے کا خدشہ بہرحال موجود رہے گا۔
بہرکیف ملک کے حالات ایسے نہیں کہ اُسے مزید بحرانی کیفیت میں دھکیلا جائے، کیوں کہ ملک کی حالت بقول شاعر ایسی ہے کہ
دیواریں تنی ہوئی کھڑی تھیں
اندر سے مکان گررہا تھا
لہٰذا پی ڈی ایم اصل میں نواز مولانا اتحاد ہے۔ پیپلزپارٹی تو صرف ”برائے قافیا “اس میں شامل ہے۔ نواز شریف دینی جماعتوں کی احتجاجی سیاست کو سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جو کام کسی سے نہ ہو اسے دینی سیاسی جماعتیں کر لیتی ہیں۔ یہ تجربہ نوازشریف کی آخری حکومت کے خلاف بھی کیا جا چکا ہے۔ عملی صورت یہ ہے کہ اس وقت خود جمعیت علمائے اسلام میں کئی لوگ مولانا کی سیاست کے خلاف جھنڈا اٹھانے والے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے کارکن اکتوبر 2016ءکو پرویز خٹک کی ریلی جیسا جلوس نہیں بنا سکتے۔ مسلم لیگی قیادت نے بڑھک مارنی ہو تو پہلے اردگرد اپنے حامی کھڑے کرتی ہے۔ لانگ مارچ کرنا ہو تو اپنے حامی پولیس افسران کے ذریعے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے پھر اسی پولیس اور حکومت کو للکارا جاتا ہے۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ صبر و تحمل کا مظاہر ہ کیا جائے کیوں کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگلے سال کے شروع میں جب سینٹ الیکشن ہوں گے تو کیا واقعات کی رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہوگی کہ اراکین اسمبلی ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی گھر چلے جائیں۔ حکومت کی وسط مدت پر سینٹ الیکشن اصل میں انتقال اقتدار کا وہ مرحلہ ہے جو ابھی طے ہوناہے۔ ایک جمہوری دماغ یہ سوال ضرور اٹھائے گاکہ منتخب حکومت کو انتقال اقتدار کا راستہ بند کرنا کیاجمہوری عمل ہے؟ کیا اس عمل کو احتساب کا رد عمل تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ کیا سیاستدان اپنے ذاتی معاملات کو ریاست کے ساتھ لڑائی بنا کر پیش کریں گے تو ملک میں استحکام کی امید رہے گی؟ سیاستدان خاص طور پر اپوزیشن جواب ضرور دے ، انتظار رہے گا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں