جمیل الدین عالی کا یوم پیدائش

جمیل الدین عالیؔ کا یومِ پیدائش”

آج 20 جنوری کو معروف شاعر، سفر نامہ نگار اور کالم نگار، جناب جمیل الدین عالی کی سالگرہ ہے۔

جمیل الدین عالی کا اصل نام مرزا جمیل الدین احمد خاں اور عالی تخلص ہے۔ آپ 20 جنوری 1926ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دہلی میں ہی حاصل کی اور 1940ء میں اینگلو عریبک کالج دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں مقیم ہوئے۔

1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد انکم ٹیکس آفیسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں، اور پھر یونیسکو میں بھی کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے۔ وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔

جمیل الدین عالی نے سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا اور 1977ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے حصہ لیا لیکن وہ الیکشن جیت نہ سکے، البتہ 1997ء میں سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔

جناب جمیل الدین عالی ایک ممتاز شاعر ہیں۔ آپ نے غزلیں، نظمیں، گیت اور دوہے لکھے۔ آپ کے لکھے ہوئے ملی نغمے بھی بے حد مقبول ہوئے جن میں ‘اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں’، ‘جیوے جیوے جیوے پاکستان’، ‘ہم مصطفوی مصطفوی ہیں’، ‘میرا پیغام پاکستان’ اور ‘ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں’ جیسے خوبصورت ملی نغمات شامل ہیں۔

جناب جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی شاعری کی کتابوں میں ‘اے میرے دشتِ سخن’، ‘غزلیں دوہے گیت’، ‘جیوے جیوے پاکستان’، ‘لاحاصل’، ‘انسان’ اور ‘نئی کرن’ جبکہ سفر ناموں میں ‘دنیا میرے آگے’، ‘تماشا میرے آگے’ اور ‘آئس لینڈ’ شامل ہیں۔ عالی صاحب طویل عرصے تک روزنامہ جنگ میں کالم بھی لکھتے رہے۔ ان کے کالموں کے مجموعے ‘دعا کر چلے’، ‘صدا کر چکے’، ‘وفا کر چلے’، ‘بارگاہِ وطن’ اور ‘کارگاہِ وطن’ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک اور کتاب ‘بس اِک گوشۂ بساط’ خاکے،مضامین اور تاثرات کا مجموعہ ہے۔

پاکستان رائٹرز گلڈ قائم کرنے میں عالی صاحب کا بڑا ہاتھ ہے۔ آپ معتمد اعزازی انجمنِ ترقیٔ اردو پاکستان ہیں۔ عالی صاحب کو ان کی فنی خدامت کے صلے میں متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جن میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی، ہلالِ امتیاز، آدمجی ایوارڈ، داؤد ادبی ایوارڈ، یونائیٹڈ بنک لٹریری ایوارڈ اور اکادمی ادبیات پاکستان کا کمال فن ایوارڈ شامل ہیں۔

جمیل الدین عالی کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔۔!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں