بابا بلھے شاہ سرکار کی حیات مبارک کے بارے میں مختصر تاریخ ۔۔۔۔۔۔

رب رب کردے بڈھے ہوگئے، ملاں پنڈت سارے
رب دا کھوج کھرا نا لبھا، سجدے کر کر ہارے
(کلام، بابا بھلے شاہ)

“آج کوک سٹوڈیو میں بلھے شاہ کی کافیوں کو مذہبی رنگ میں پڑھنے والے، اسکو تقدیس سے بابا بلھے شاہ کہنے والے کیا جانتے ہیں کہ بلھے شاہ کو بھی کافر قراد دے کر اس وقت کے سبھی مولویوں نے نا صرف ان جنازہ پڑھانے سے انکار کیا بلکہ جنازہ پڑھانے والے پر بھی فتوی باندھا کہ اسکا نکاح ختم ہو جائے گا، اور کنوارے کی مسلمان عورت سے شادی ممکن نا ہوگی۔ اس وقت کی مسلمان آبادی نے احتجاج کیا کہ بلھے شاہ کو مسلمانوں کے قبرستان میں نا دفنایا جائے۔
‘بھلیا چل اوتھے چلیے جتھے سارے انہے
نہ کوئی ساڈی ذات پچھے نہ کوئی سانوں منے’

غرض ایک خواجہ سراء نے بلھے شاہ کا جنازہ پڑھایا، بھنگی، مست، کھسرے پنجابی کے سب سے بڑے شاعر کا جنازہ اتھائے قصور شہر سے دو میل باہر جا کر دفن کرنے پر مجبور ہوئے۔

‘سر تے ٹوپی، تے نیت کھوٹی، لینا کی سر ٹوپی دھر کے
تسبیح پھری پر دل نا پھریا، لینا کی ہتھ تسبیح پھڑ کے
چلے کیتے پر رب نہ ملیا، لینا کی چلیاں وچ وڑھ کے
بلے شاہ جاگ بنا ددھ نہی جمدا، پاویں لال ہووے کڑھ کڑھ کے’

بلھے شاہ کی گمنام قبر کے گرد شہر پھیلتا گیا، آج بابا بلھے شاہ کا قصور شہر کہلاتا ہے۔ وہ مولوی کون تھے جو ان جنازہ پڑھانے سے انکاری تھے۔ وہ چوہدری کون تھے جو اسکی لاش کو قبرستان میں دفن ہونے سے روکتے رہے۔ وہ شہری کون تھے جو ان کی لاش کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے، کوئی نہیں جانتا-
لیکن بلھے شاہ آج بھی اپنی گمنام قبر سے بول رہا ہے، اور بولتا رہے گا کہ
‘بلھیا اسیں مرنا ناہی گور پیا کوئی ہور’-“

مرشد منانا ہو تو کوئی حضرت عبداللہ عرف بابا بھلے شاہ سے سیکھے جنہوں نے مرشد کو منانے کے لئے باقاعدہ کورٹ مراد کی مرادی بیگم سے رقص کی تعلیم حاصل کی رقص سیکھا اور گھنگرو پہن کا شاہ عنایت کے در پر جا کر رقص کر کے اپنے مرشد کو منایا۔
مرشد کو گھنگھرو پہن منانے کا کشف بھلے شاہ کو تان سین کے مزار سے عطا ہوا جس کہ بعد اپنی سید ذات ہونے کے باوجود اک ناچننے والی سے رقص کی تعلیم حاصل کی اور آرائیں ذات رکھنے والے مرشد شاہ عنایت کو منایا کیونکہ بھلے شاہ کو معلوم تھا کہ ان کے مرشد شاہ عنایت قادری سلسلے سے اور قادری سلسلہ کے لوگ رقص اور وجد کی کیفیت کو بہت پسند کرتے ہیں ۔
اپنی ذات کی نفی کرنے کی یہ یہ مثال لاجواب ہے۔اپنے آپ کی نفی کرو اور ُاس مالک کے در پر سر جھکا کر خاموشی سے سنتے رہو۔
اللہ ہمیں صیغہ نفی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔
ﺑﺎﺑﺎ ﺑﮭﻠﮯ ﺷﺎﮦ ﺭﺡ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔

ﭨﮭﺎ ﺩﮮ ﻣﻨﺪﺭ ﭨﮭﺎ ﺩﮮ ﻣﺴﺠﺪ ﭨﮭﺎ ﺩﮮ ﺟﻮ ﮐﺠﮫ ﭨﮭﯿﻨﺪﺍ ﺍﮮ
ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮮ ﺩﺍ ﺩﻝ ﻧﮧ ڈ ھﺎﻭﯾﮟﺍﺱ ﻭﭺ ﺭب ﺭﮨﻨﺪﺍ ﺍﮮ

شاہ عنایت شطاری سلسلہ کے محمد علی رضا کے مرید تھے۔ شاہ عنایت نے ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام تھا دستور العمل ہے۔

طالبِ دُعا:

محمد محی الدین باھو قادری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں