جنرل ایوب خان کا سنہری دور حکومت

آئیے آج اس دور کو یاد کریں جب جمہوریت جیسا ناسور ہم پر مسلط نہیں تھا جب امریکی ڈالر 3 روپے کا تھا سونے کی قیمت 160روپے تولہ تھی آٹا سولہ روپے کا من(40 کلو) گوشت چھوٹا دو روپے سے تین روپے کلو بڑا گوشت ایک روپے سے ڈیڑھ روپے کلو خالص گھی چار روپے کلو ،دودھ ایک روپے لیٹر/کلو تھا

آپ سوچیں گے ایسا کون سا معجزاتی دور تھا ہاں ایسا دور تھا فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کا دور حکومت جنرل ایوب خان ایک مخلص انسان تھے۔ جنہیں پاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ایوب خان کے زمانے میں ہی پاکستان نے صنعتی اور زرعی ترقی کی طرف تیزی سے قدم بڑھایا۔ اس دورحکومت کو عوامی اعتبار سے پاکستان کا سنہری دور بھی کہا جاتا ہے

ایوب خان کےدور حکومت میں پاکستان کی ترقی کا اندازہ یہاں سے لگائیے ایشیا میں پاکستان ترقی کےلحاظ سے جاپان کےبعد دوسرے نمبر پر تھا۔

اِن کےدور حکومت میں 1958ءسے1969ءتک امریکی ڈالر تین روپے سےپانچ روپے کے درمیان رہا اور ڈالر اور سونے کی قیمت میں جو اضافہ ہوا وہ بھی 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہوا۔ایوب خان کے زمانے میں ہی عوام نے تمام سینما گھروں میں وہ تصویری خبرنامہ دیکھا ،جس میں امریکہ کا صدر کینیڈی جناب ایوب خان، صدرِ پاکستان کا استقبال کرنے بہ نفسِ نفیس ائیر پورٹ پر آتا ہے۔

ایوب خان نے 1960 میں برطانیہ کا سرکاری دورہ کیا تو اُن کا فقید المثال استقبال کیا گیا ،1961ء میں ایوب خان نے امریکہ کا دورہ کیا اور یہاں بھی صدر جان ایف کینڈی نےاُن کا شاندار استقبال کیا یہ پاکستانیوں کی اہمیت تھی یہ پاکستان کی عزت کا دور تھا

سپارکو جو پاکستان کا پہلا خلائی تحقیقاتی اِدارہ ہے، اُس کی داغ بیل 1961ء میں ایوب خان نے ہی ڈالی تھی۔ بعد ازاں رہبر 1 اور رہبر 2 راکٹ اسی ادارے نے لانچ کئے تھے

1962ء میں پاکستان کی پہلی اور بڑی آئل ریفائنری کراچی میں قائم ہوئی ایوب خان نے ہی شپ بلڈنگ کی بنیاد رکھی۔ آر سی ڈی شاہراہ کی تعمیر ایوب خان کے زمانے میں شروع ہوئی۔

یہ تمام کارنامے بالواسطہ اور بلاواسطہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے تھےایوب خان کے زمانے میں بہت کام ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن( PTV) کا اجراء 1964ء میں ہوا۔ملک کا پہلا ٹی وی اسٹیشن لاہور میں ایک بنگلہ نما عمارت میں قائم کیا گیا۔ اِسے جاپان کی نیپون کارپوریشن کے ٹیکنیشنز اور تربیت کاروں کی مدد سے قائم کیا گیا تھا

پاکستان کے پاس 1955 تک اپنی قومی ایئر لائن نہیں تھی۔ 1955 کے بعد اوریئنٹ ایئرلائن نامی نجی کمپنی کو قومی دھارے میں لایا گیا اور اس کا نام بدل کر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) رکھ دیا گیا۔1969 کی دہائی میں پی آئی اے سب سے زیادہ ترقی کرنے والی ایئر لائنز میں شمار کی جانے لگی ایوب خان کے زمانے میں ہی چین سے پی آئی اے کا رشتہ قائم ہوا

سوئی ناردرن گیس کمپنی 1963ء میں شروع کی گئی ، جس کی وجہ سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صوبوں کی صنعتی ترقی تیز ہوئی۔ کیمیائی کھاد اور مصنوعی دھاگہ (نائلون)بنانے کے کارخانے سوئی گیس کی دستیابی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر میں قائم ہوئے۔

ایوب خان کے دورحکومت کے پہلے نصف حصے میں 1961ء میں پاکستان میں ریلوے کا صد سالہ جشن منایا گیا اور لاہور تا خانیوال الیکٹریک ٹرین شروع کی گئی،سکھر میں ریلوے کا نیا پل بنایا گیا اسلام آباد جیسا خوبصورت شہر اور دارالحکومت تعمیر کیا گیا

منگلا ڈیم کی تعمیر ایوب خان کے زمانے میں ہی پایہءتکمیل تک پہنچی۔تربیلا ڈیم کی تعمیر بھی1968ءمیں شروع ہوئی۔یہ ڈیم دنیا کا سب سےبڑا ڈیم ہے، جس کے دونوں کنارے مٹی کی بھرائی سے تیار ہوئے۔ اب تک یہ ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا بجلی مہیا کرنے والا لاڈیم ہے۔

پی آئی ڈی سی پاکستانی سرمایہ کاروں کو صنعت کی طرف مائل کرنے کے لئے 1950ء میں بذریعہ پارلیمانی ایکٹ بنائی گئی تھی، لیکن یہ ایوب خان تھے جنہوں نے اس غیر فعال اِدارے کو 1962ء میں مہمیز لگائی اور پاکستان کے دونوں حصوں میں حکومتی سرمائے سے صنعت کاری شروع کی گئی۔پی آئی ڈی سی کا مقصد یہ تھا کہ سرمایہ کاروں کو انڈسٹری کی طرف مائل کرے اور جو جو صنعتیں پی آئی ڈی سی کے ذریعے لگائی جائیں اُن کو منافع بخش بنا کر نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کر دیا جائے۔ اسی اسکیم کےتحت پاکستان میں جوٹ ملز، کھاد کے کارخانے،اونی دھاگہ اور کپڑا بنانے کے کارخانے ،مصنوعی نائلون کے ریشے سے کارپٹ بنانے کے کارخانے چینی کے کارخانے، سیمنٹ،ادویات اور مشین ٹولز بنانے کے کارخانے ایوب خان کے زمانے میں ہی پی آئی ڈی سی نےلگائے۔

ایوب خان کے دورِ حکومت کے ابتدائی 6 سالوں کے دوران پاکستان کی صنعت کاری میں8.51 فیصد تک متاثر کن اضافہ ہوا۔ یہ اُس دور میں مختلف ایشیائی معیشتوں میں سے سب سے زیادہ شرح تھی، جبکہ 1959 اور 1967کے درمیان ملک نے 6 فیصد کے اضافے کے ساتھ مسلسل اقتصادی ترقی کی ایوب خان زرعی تحقیقاتی انسٹیٹوٹ بنائی جو ان یونیورسٹیوں سے بھی زیادہ بہتر شمار ہوتی ہے۔

افغانستان جو کہ ایک Land Locked ملک ہے ،جس کی درآمدات پاکستان کی کراچی کی بندرگاہ سے ہو کر جلال آباد یا چمن بارڈر کے راستے افغانستان میں بغیر کسی رسمی معاہدے یا قانون کے داخل ہوتی تھیں اور یہ سلسلہ تقسیم ہند سے پہلے کا چلا آرھا تھا، صدر ایوب کی حکومت نے 1959 میں Afghan Transit Trade Agreement نافذ کیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے افغانستان سے سمگلنگ تو بند نہ ہو سکی، لیکن حکومت کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے راہداری کی آمدنی ملنی شروع ہو گئی۔

ایوب خان کے زمانے میں ہی گوشت کی فروخت 2 روز (منگل اور بُدھ) کے لئے پورے ملک میں ممنوع قرار دی گئی تاکہ بھیڑ بکریوں کی شرح افزائش ملک کی ضروریات کے مطابق بڑھتی رہے پرائز بانڈ سیکم ایوب خان کے زمانے میں ہی شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔

کالے سرمائے کو ملکی ڈویلپمنٹ بجٹ میں شامل کرنے کے لئے یہ طریقہ کامیاب رہا ہے ایوب خان کے معاشی ترقی کے اسی شوق کی وجہ سے زرعی تحقیقاتی اِدارہ لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کی بنیاد 1962ء میں رکھی گئی۔اس زرعی تحقیقاتی اِدارے کی وجہ سے ہمارا ملک دنیا کے بہترین آم پیدا کرتا ہے۔کینو جو (Orange) کی ایک قسم ہے، اسی تحقیقاتی اِدارے کا کارنامہ ہے۔ کیلا جو پارٹیشن(تقسیمِ ہند) سے پہلے مغربی پاکستان میں بالکل نہیں پیدا ہوتا تھا، آج ہم اسی زرعی تحقیقاتی اِدارے کی وجہ سے دنیا کا بہترین کیلا پیدا کر رہے ہیں۔

پنجاب زرعی کالج لائل پور جو 1906ء میں برطانوی حکمرانوں نے بنایا تھا، اُسے زرعی یونیورسٹی کا درجہ ایوب خان کی حکومت نے دیا پیمائش ، کرنسی اور وزن کے نظام کو میٹرک سسٹم پر 1967ء میں کیا گیا۔ اس طرح ہماری تجارت بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو گئی۔

ایوب خان نے مستحکم ترقی کے لیے جنوبی ایشیا میں سب سے پہلے خاندانی منصوبہ بندی کے تحت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر سالانہ بجٹ میں معقول رقم رکھی ایوب حکومت نے اپنا پہلا سالانہ قومی بجٹ مالی سال 1959-60 پیش کیا جس کا مجموعی ہجم ایک ارب 56 کروڑ 8 لاکھ تھا یہ خسارے کی بجائے بچت کا بجٹ تھا جس میں 2 کروڑ 63 لاکھ کی بچت تھی آخری بجٹ مالی سال 1968-69 کا تھا جس کا مجموعی حجم 6 ارب88 کروڑ93 لاکھ تھا اور خسارے کی بجائے بچت 2 ارب 52 کروڑ73 لاکھ روپے تھی۔ صدر ایوب خان نے اپنے دور اقتدار میں دس قومی بجٹ پیش کئے یہ تمام بجٹ خسارے کی بجا ئے بچت کے بجٹ تھے

ایوب خان کے زمانے میں ہی میو آرٹ کالج کا نام نیشنل کالج آف آرٹس رکھا گیا۔وارسک ڈیم جو کولمبو پلان کے تحت 1957ء میں شروع ہوا تھا ،لیکن اس کی تعمیر سُست روی کا شکار تھی۔ ایوب خان کی حکومت نے وارسک ڈیم کو 1960ء میں مکمل کروایا
‏جنرل ایوب کے دور میں سفارش،اقربا پروری، رشوت ستانی ختم کر د ی گئی تھی ایوب خان کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ عمومًا قابلیت اور اہلیت کی بنیادوں پر اپنے وزرا اور اعلیٰ افسران کو تعینات کرتے تھے

‏آج کے دور میں ہم ایوب خان کو اس لئے بھی بہتر حکمران سمجھتے ہیں وہ ایک مخلص انسان تھے۔ جسے پاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی کا جنون کی حد تک شوق تھا۔
اور اس کے بعد ڈائن جمہوریت ہمیں چمٹ گئی پھر مردار بھٹو اور چور نواز نے اس ملک میں جو تباہی شروع کی جو آج تک جاری ہے…..

یہ صنعتیں یہ ڈیم یہ بے شمار پودے جنرل ایوب خان کے ہی لگائے ہوئے ہیں جو آج بھی بلاناغہ پھل دے رہے ہیں

فیلڈ مارشل ایوب خان پاکستان کے واحد جنرل ہیں جنہیں ★★★★★ جنرل کہا جاتا ہے یعنی فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان
اللہ پاک ایوب خان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ثمہ آمین

نیشنل سیکرٹ فورس آف پاکستان

Gen Ayoub Khan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں