بمبئی کی مشہور طوائف

گنگوبائی 1960 کے عشرے کی بمبئی کی مشہور طوائف تھی. اس کا تعلق وکیلوں کے ایک معزز خاندان سے تھا. اس کے عاشق نے اسے دھوکہ دیا اور ایک کوٹھے پر فروخت کر دیا تھا.
اپنی کئی خوبیوں کی بنا پر ریڈ لائٹ ایریا کے مکینوں نے اسے اپنی لیڈر مان لیا تھا. وہ اس علاقے سے کونسلر بھی منتخب ہوگئی. اس نے کئی بکی ہوئی لڑکیوں کو ان کے گھر واپس بھجوایا.
اس علاقے میں لڑکیوں کا ایک سکول کھلا تو تحریک چلی کہ طوائفوں کو اس علاقے سے نکال دیا جائے.
سیاستدانوں میں جان پہچان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گنگو بائی نے فوراً وزیر اعظم جواہر لعل نہرو سے ملاقات کے لیے وقت مانگا جو مل گیا.
ملاقات میں گنگوبائی کی ہوشیاری اور واضح خیالات سے نہرو بھی حیران رہ گئے۔ نہرو نے سوال کیا کہ وہ اس پیشے میں کیوں آئیں جبکہ انھیں اچھی نوکری یا اچھا شوہر مل سکتا تھا.
گنگو بائی نے فوراً کہا کہ اگر وہ انھیں بیوی کے طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں تو وہ یہ پیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں گی۔
نہرو حیران رہ گئے لیکن انکار کر دیا۔ تب گنگوبائی نے کہا کہ ’وزیر اعظم صاحب، ناراض نہ ہوں۔ میں صرف اپنی بات ثابت کرنا چاہتی تھی۔ مشورہ دینا آسان ہے لیکن اس پر خود عمل کرنا مشکل۔‘
نہرو لاجواب ہو گئے۔
نہرو نے گنگو بائی سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔ وزیر اعظم کی مداخلت کے بعد طوائفوں کو علاقے سے نکالنے کے منصوبے پر عمل نہیں ہوا۔

اب انڈین فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی، گنگوبائی کاٹھیوالی کی زندگی پر فلم بنا رہے ہیں۔ سنہرے کنارے والی سفید ساڑھی، سنہرے بٹن والا بلاؤز اور سنہرا چشمہ پہننے اور اپنی کار میں سفر کرنے والی گنگوبائی کا کردار عالیہ بھٹ کر رہی ہیں۔ BBC

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں