اسلام آباد : وزیر اعظم کو اعتماد کے ووٹ کے بعد ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا

اسلام آباد ( اسپیشل رپورٹر ) وزیراعظم  عمران خان کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد  ایک اور بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک طرف دیرینہ دوستی، قابل اعتماد وزیر تو دوسری جانب اہم اتحادیوں کے مابین بھی باہمی مقابلہ شروع ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر سینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی جانب سے  ڈپٹی چیئرمین اور مزید وزارتیں دینے کے مطالبات  سامنے آرہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ انتہائی قریبی رفقاء سے مشاورت شروع کردی ہے۔  تاہم اتحادیوں کی بات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی لابنگ مشکل ہوجائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی اتحادیوں کو آفرز شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکمران جماعت اور اتحادی نمائندوں کے مابین بھی وزارت پر مسابقت شروع ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نومنتخب سینیٹر بیرسٹر علی ظفر فروغ نسیم کی جگہ وزیر قانون بنائے جانے کے خواہش مند ہیں جب کہ  فروغ نسیم وزارت قانون کے سوا کسی اور عہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں  مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا قلم دان ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔  پہلے انہیں سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دیا گیا اور اب مشیر کا عہدہ بھی ہاتھ سے جانے کا ڈر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر علی ظفر کو وزیر پارلیمانی امور بنانے کی پیش کش کی گئی ہے جسے نومنتخب سینیٹر نے قبول نہیں کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک مرتبہ پھر وزارت کے مطالبے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ مانگ لیا ہے۔ وزیراعظم کے قریبی رفقاء کی جانب سے فروغ نسیم کو بطور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ دے کر سب کو راضی کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔  جب کہ فروغ نسیم نے وزارت قانون کے سوا کوئی اور قلمدان نہ سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کو بطور وزیر قانون وزیراعظم کا اعتماد حاصل ہے اور عمران خان ان کی کارکردگی سے مطمئن بھی ہیں۔ دریں اثنا ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی طرف سے بڑی  پیش کش کی گئی ہے۔ اگر حکومت سے بات نہ بنی تو ایم کیو ایم نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کاعندیہ بھی دے دیا ہے۔  ایم کیو ایم کی قیادت فیصل سبزواری کو ڈپٹی چئیرمین سینیٹ یا ایم کیو ایم کے  کوٹہ کا وزیر بنانے کی خواہاں ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر طویل مشاورت شروع کردی  ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں