کچھ عادات نہیں جاتیں چاہے جان چلی جائے

از قلم غنی محمود قصوری

آگ تو حفیظ سنٹر میں لگی تھی نقصان انہی تاجروں کا ہو رہا تھا جن کی ادھر دکانیں تھیں مگر دل سارے ملک کا جل رہا تھا کیونکہ یہ تاجر بھی ہمارے مسلمان پاکستانی بھائی ہیں
آج ان پر برا وقت آیا تو خدانخواستہ کل ہم پر بھی آ سکتا ہے مگر اس سے بھی پہلے ہمیں اللہ حکم دے رہا ہے کہ تو مدد کر اپنے بھائی کی جب تک تو اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے گا میں تب تک تیری مدد کرتا رہونگا
جنہوں نے اللہ کے حکم کو ماننا ہوتا ہے کچھ کرنا ہوتا ہے
وہ وسائل نہیں دیکھتے وہ کچھ کرنے کا عزم کرتے ہیں کیونکہ ان کا توکل اللہ پر ہوتا ہے ناکہ وسائل پر
الحمدللہ پاکستان میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں کہ جب بھی پاکستانیوں پر برا وقت آتا ہے یہ اللہ کے بندے خدمت خلق شروع کر دیتے ہیں
یہ نا مسلک دیکھتے ہیں نا رنگ و نسل نا ذات برادری دیکھتے ہیں نا غریبی امیری بس ان کا کام خدمت خلق ہے چاہے ان کو مارے گالیاں دے تب بھی یہ اپنے کام سے باز نہیں آتے اکثر و بیشتر ان کو تھانوں ،جیلوں اور مار کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر یہ پھر بھی نہیں رکے کیونکہ دراصل خدمت خلق کرنا ان کی عادت بن چکی ہے اور کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو جاتی ہی نہیں چاہے جان کیوں نا چلی جائے
انہی عادتوں میں مبتلا لوگ
کل حفیظ سنٹر لاہور میں لگی آگ کے دوران اداروں ، تاجروں،راہگیروں کو کھانا کھلا رہے ہیں
مذید انہوں نے اپنی بساط کے مطابق ریسکیو اداروں کے کام میں معاونت بھی کی
یا اللہ تو ان کو شاد رکھنا آباد رکھنا آمین

قصوریات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں