اسلام آباد : فیٹف شرائط؛ دو ہزار پراپرٹی ڈیلرز اور اسٹیٹ ایجنٹس رجسٹرڈ، جیولرز بھی جلد متوقع

 اسلام آباد (کامرس رپورٹر ) فیٹف شرائط پر عمل درآمد کے لیے قائم کردہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز نے دو ہزار کے لگ بھگ پراپرٹی ڈیلرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو رجسٹرڈ کرلیا جبکہ جیولرز بھی جلد رجسٹرڈ ہوجائیں گے۔ ایف بی آر ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز کی جانب سے دسمبر میں پراپرٹی ڈیلرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے ساتھ ساتھ جیولرز اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو نوٹس بھجوائے گئے تھے جس کے ساتھ پرفارما بھی بھجوایا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ اس پرفارما کے مطابق رجسٹریشن حاصل کی جائے اور جائیدادیں خریدنے اور جیولری خریدنے والوں کے کوائف فراہم کیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے باقی رہ جانے والے چند نکات پورے کرنے کے لیے فیٹف شرائط پر عمل درآمد تیز کردیا گیا ہے اور اسی کے تحت ایف بی آر نے پراپرٹی ڈیلرز، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی رجسٹریشن کا عمل تیز کیا ہے اور آئندہ ماہ تک ملک بھر سے دو ہزار سے زائد جیولرز اور پانچ ہزار رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اینڈ پراپرٹی ڈیلرز اور چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک دو ہزار کے لگ بھگ رجسٹریشن کی جاچکی ہیں۔ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کے سیکشن 6 اے کے تحت 57 ہزار جیولرز، ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اور چارٹرڈ اکاونٹنٹس کو نوٹس جاری کئے گئے تھے جن میں دو ہزار کے لگ بھگ لوگ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ ایف بی آر نے جیولرز، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے لیے رجسٹریشن میں آگاہی کے لیے مہم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے آگاہی سیمینار منعقد ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے 82 ارب 26 کروڑ روپے کے کیسز درج کیے ہیں اور منی لانڈرنگ کی بڑی کارروائیوں کے 119 کیسز کا اندارج کیا ہے، یہ کارروائیاں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس و انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی جانب سے کی گئی ہیں۔ رواں برس منی لانڈرنگ کے کیسز سے 6 ارب 22 کروڑ روپے ریکور ہوئے، 66 غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں اور 203 بینک اکاوٴنٹ منجمد کیے گئے جب کہ وفاقی دارالحکومت سے سیلز ٹیکس چوری کا ایک کیس پکڑا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے پکڑے جانے والے منی لانڈرنگ کے کیسوں میں ایک درجن سے زائد کیس ایڈوانس مرحلے میں  ہیں۔ فیٹف نے منی لانڈرنگ کے کیسوں کو خود سے ایویلیوایٹ کرنے کا کہا ہے اور فیٹف کی جانب سے منی لانڈرنگ کے کسیوں میں پراسیکیوشن کا عمل تیز کرکے سزائیں دینے پر زور دیا جارہا ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے کیسوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 57 ہزار نوٹسز میں 252 چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بھی شامل ہیں جس میں انہیں رجسٹرڈ ہونے کی مہلت دی گئی تھی، کمپلائنس نہ کرنے والوں کو یاد دہانی مراسلے بھی بھجوائے جاچکے ہیں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد رجسٹریشن نہ کروانے والے جیولرز، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز اکاؤنٹنٹ، اسٹیٹ ایجنٹس، پراپرٹی ڈیلرز اور جیولرز کے کاروبار کو ڈاکیومنٹڈ بنانے کے لیے رجسٹریشن کرے گا اور ان کی مانیٹرنگ کرے گا، قوانین کی خلاف ورزی پر انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت قید و جرمانے سمیت دیگر سخت سزائیں بھی دی جاسکیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس تمام صارفین اور ان کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ رکھیں گے، جیولرز 20 لاکھ سے زائد کیش ٹرانزکشن پر صارفین کے تمام ریکارڈ رکھنے کے پابند ہوں گے کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشنز یا شک و شبہ کی صورت میں ڈائریکٹریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا جبکہ مشکوک صارف کی معلومات فراہم نہ کرنے پر 10 کروڑ روپے تک کا جرمانہ بھی کیا جاسکے گا جس کے لیے ڈائریکٹریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز کو جیولرز، اکاؤنٹنٹس اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے ریکارڈ کی انسپکشن کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ تمام تر ریکارڈز کو کم از کم پانچ سال تک برقرار رکھنا ہوگا، صارفین کو اپنے بینیفشل آنر کی تصدیق کے لیے نادرا سے جاری کردہ شناختی کارڈ اور اوورسیز پاکستانی ہونے کی صورت میں نائیکوپ یا پاسپورٹ فراہم کرنا ہوگا۔ بیس لاکھ روپیے یا اس سے زائد مالیت کی ٹرانز یکشن پر رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور جیولرز کو خریداری کرنے والے صارفین سے فارم پُر کروانا ہوگا اوراس میں خریداری کے لیے آنے والے شخص کے کمپیوٹرایزڈ شناختی کارڈ نمبر، متعلقہ شخص کا نام، پتا، رابطہ نمبر اور رقم کی ادائیگی کا ذریعہ بھی بتانا ہوگا اور کسی بھی جائیداد و جیولری، ہیرے جواہرات و قیمتی پتھروں کی خرید و فروخت میں مالکان و بینفیشنل آنرز میں اگر سیاسی لوگ پارٹنرز یا شراکت دار ہوں گے تو انک ے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ اسی طرح کسی سیاسی شخص کے لیے کاروباری تعلقات رکھنے والا اور ایسے انفرادی شخص جو قانونی طور پر کسی بھی کاروبار یا لیگل ارینجمنٹ کا بینیفشل آنرز ہے مگر وہ کسی سیاسی شخصیت کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں بھی معلومات دینی ہوں گی اور یہ کہ سیاسی لوگوں، ان کے بیوی بچوں و زیر کفالت اور ان کی اہل خانہ کے بارے میں بھی معلومات و ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا۔ نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں اکاؤنٹنٹ، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اینڈ پراپرٹی ڈیلرز اور جیولرز کو بطور مجاز نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز (ڈی این ایف بی پیز) خود کو ایف بی آر کے پاس رجسٹرڈ کروانا ہوگا اور رجسٹریشن کے لیے درکار دستاویزات اور ریکارڈ ایف بی آر کو فراہم کرنا ہوگی۔ نوٹی فکیشن کے مطابق سینئر مینجمنٹ و بینیفشل آنرز کے کرمنل ریکارڈ سمیت مجاز نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز(ڈی این ایف بی پیز) کا ریکارڈ اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے لیے ایف بی آر کو درکار تمام معلومات اور دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی اکاؤنٹنٹس، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اینڈ پراپرٹی ڈیلرز اور جیولرز سمیت تمام مجاز نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز(ڈی این ایف بی پیز) کو انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی سیکشن سات ایف کے تحت رسک اسیسمنٹ اینڈ مٹی گیشن کے لیے مناسب اقدامات اٹھانا ہوں گے جن کے تحت ان کے کسٹمز کی شناخت، انہیں جاننے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ ممالک، جیو گرافیکل ایریاز، پراڈکٹس، سروسز، ٹرانزیکشنز اینڈ ڈیلوری چینلز سے متعلق تمام مطلوبہ اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ اس بارے میں مکمل معلومات مجاز نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز(ڈی این ایف بی پیز) کے پاس موجود ہو ں ۔ نوٹ فکیشن میں کہا گیا ہے کہ اپنے کسٹمز کے رسک اسیسمنٹ کو دستاویزی بنایا جائے اور تمام دستاویزی ریکارڈ اپنے پاس رکھا جائے نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز(ڈی این ایف بی پیز) کو انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی سیکشن سات سی کے تحت اپنے کلائنٹس و صارفین کا مکمل ریکارڈ اپنے پاس رکھنا ہوگا جس میں ٹرانزیشکن کی اقسام و ٹرانزیکشن کی تاریخ اور جس کرنسی میں ٹرانزیکشن کی کی گئی اس کی تفصیل بھی اپنے پاس رکھنا ہوگی اور جن لوگوں کے بارے میں کسی بھی عدالت یا مجاز اتھارٹی کے پاس کیس زیر التواء ہونگے تو ان کے بارے میں کیس نمٹنے تک ریکارڈ اپنے پاس رکھنا ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق مجاز نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز (ڈی این ایف بی پیز) کو انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی سیکشن سات جی کے تحت جامع کمپلائنس پروگرام بھی متعارف کروانا ہوں گے اور ان پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، علاوہ ازیں مجاز نان فنانشل بزنس اور پروفیشنلز(ڈی این ایف بی پیز) کو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (ایس ٹی آر) اور کاؤنٹر ٹیررازم رپورٹ (سی ٹی آر) بھی تسلسل کے ساتھ بھجوانا ہوں گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے حال ہی میں گریڈ 21 میں ترقی پانے والے افسر محمد اقبال کو ڈائریکٹر جنرل آف ڈی این ایف بی پیز کا چارج دیا ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر بشیر اللہ کے پاس یہ اضافی چارج تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گریڈ 21 میں ترقی پانے والے افسر محمد اقبال نیکٹا میں تعینات تھے جو اب واپس ایف بی آر آگئے ہیں اور اس سے پہلے بھی محمد اقبال ایف بی آر میں بطور چیف انٹرنیشنل ٹیکسز تعینات رہ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں