میاں صاحب کی سیاست، بانی متحدہ کی ڈگر پر ؟ تلخیاں

تلخیاں
میاں صاحب کی سیاست، بانی متحدہ کی ڈگر پر؟
علی احمد ڈھلوں
Tuesday Roznama Pakistan News
آزادی کے بعد سے پاکستان سیاسی ،داخلی وخارجی کشمکش سے دوچاررہاہے،یہاں کسی کو علم نہیں ہوتا کہ کون سی ”سیاسی آفت“ کس سمت کروٹ لے، اور کون سے غیر یقینی کے بادل سب کچھ اپنی بساط میں لے لیں۔ یہاں جمہوریت کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئیں لیکن مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے،اس کی بڑی وجہ ان تحریکوں کے پس پردہ وہ حقائق ہیں جن سے ہر دور میں پردہ اُٹھتا رہتا ہے۔ اس لیے موجودہ اپوزیشن تحریک سے بھی جلد یا بدیر پردہ اُٹھ جائے گا اور بہت سے ”انکشافات“ بھی منظر عام پر آئیں گے۔ قصور وار کوئی بھی ہو مگر سچ یہی ہے کہ قیام پاکستان کے فوری بعد اقتدارکی غلام گردشوں میں ٹانگیں کھینچنے کا جو عمل شروع ہوا،اس دوران صرف8سال میں7وزرائے اعظم اقتدار میں آئے اور بے عزت کرکے نکالے گئے۔ اس شرمناک تماشے پر بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرویہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ اتنی جلدی تومیں دھوتی نہیں بدلتاجتنی جلدی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں۔جبکہ اس کے برعکس بھارت ہی میں آزادی سے لے کر اب تک پختہ سیاسی نظام رائج ہے، جس کی بدولت اب تک وہاں 17عام انتخابات ہوچکے ہیں ،ایک میکنزم کے تحت مقررہ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد انتخابات ہوتے ہیں ،بعض اوقات مقررہ مدت سے قبل بھی انتخابات ہوئے لیکن ان کیلئے راستہ آئینی ہی اختیارکیا گیا،کبھی ایسانہیں ہواکہ سیاسی کشمکش کو جواز بناتے ہوئے وہاں ایک دن کیلئے بھی مارشل لا لگایا گیا ہو یا سیاستدانوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے یا تو بیرون ملک سے شوکت عزیز کی طرح کوئی وزیر اعظم امپورٹ کیا گیا ہویا پھر معین قریشی کی طرح ایک ایسے غیرملکی کو وزیراعظم بنایاگیاہو جس کے پاس اپنے ملک کا شناختی کارڈ و پاسپورٹ تک نہ ہواور یا پھر ایسے شخص کو تیسری بار وزیر اعظم بنایا گیا ہو جس پر کئی ایک کرپشن کے مقدمات چل رہے ہوں۔
مسائل جو بھی ہوں، لیکن ہمیں جمہوریت کا اُس طریقہ سے فائدہ نہیں ہو سکا جو فائدہ ہمارے ہمسایہ ممالک یا دیگر جمہوری ممالک اُٹھا رہے ہیں۔ الغرض جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھنے کو ملا ہے کہ ہر تحریک کے پیچھے کوئی نہ کوئی پراسرار راز چھپا ہوتا ہے، جس سے ہمیشہ ملک کو فائدہ ہونے کے بجائے اُلٹا نقصان ہی ہوا ہے۔ اور اب کی بار بھی اپوزیشن کی جس تحریک نے سر اُٹھا یا ہے اُس کے پس پردہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی لابی کارفرما نظر آرہی ہے۔ کیوں کہ اپوزیشن کی جانب سے 20 ستمبر کو کی گئی اے پی سی میں مسلم لیگ( ن) کے قائد نواز شریف نے جو لب و لہجہ اختیار کیااور پھر اس کے بعد سے مختلف اجلاسوں، پریس کانفرنسز اور میڈیا ٹاکس میں جو زبان اور لب و لہجہ اختیار کیا گیا اُس سے تو یہ لگ رہا ہے کہ نواز شریف بانی متحدہ الطاف حسین کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ غور سے دیکھا جائے تو چند چیزیں الطاف حسین اور میاں نواز شریف کے مابین مشترک ہیں، پہلا یہ کہ دونوں کی سیاست جنرل ضیا الحق کے زیر سایہ پروان چڑھی، دوسری قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ایک عرصے تک مقتدر حلقوں کے کارندے رہے لیکن پھر ایک وقت آیا کہ ان کو چیلنج کرنے لگے اور تیسری قدر مشترک یہ ہے کہ الطاف حسین نے بھی لندن کو مرکز بنا کر جنگ چھیڑ دی تھی جبکہ میاں نواز شریف نے بھی لندن کو مورچہ بنا لیاہے۔چوتھی قدر مشترک یہ ہے کہ اپنے ”آخری دنوں“ میں بانی متحدہ جو حرکتیں کرتے تھے اور پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے وہی کام آج نواز شریف کر رہے ہیں۔
ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بے شمار اعتراضات ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرنے والے بھی یہی ہیں، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ابھی اگر نوازشریف کو مقتدر طاقتیں آفر کرےںگی کہ آجائیں سب اچھا ہے، تو مجھے ہزار فیصد یقین ہے کہ موصوف بغیر چون و چرا اسٹیبلشمنٹ کی گود میں آکر بیٹھ جائیں گے۔ مطلب اگر اسٹیبلشمنٹ ان کی سپورٹ کرتی رہے تو سب اچھا ہے ،اور اگر سپورٹ نہ کی جائے تو یہی سب ادارے انہیں جمہوریت دشمن لگنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ 1997ءکے الیکشن میں کیا بے نظیر نے ان پر الزام نہیں لگایا تھا کہ نواز حکومت کو اسٹیبلشمنٹ لے کر آئی ہے؟ اور پھر معروف صحافی کے تو ویڈیو کلپ بھی موجود ہیں کہ نواز شریف نے اُن سے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے انہیں بلا کر کہا ہے کہ اگلی حکومت تمہاری ہے۔ یعنی اُس وقت اسٹیبلشمنٹ بہت اچھی تھی؟ جبکہ اب اقتدار نہیں مل رہا تو اسٹیبلشمنٹ بہت بری ہو چکی ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کو براہ راست ہدف تنقید بنا کر پی ڈی ایم اور مسلم لیگ(ن) کو مشکل میں ڈال دیا ہے ،
گویم مشکل و نہ گویم مشکل
کی صورت حال پیدا کر دی، جلد یا بدیر بلاول بھٹو کو وضاحت سے بتانا ہو گا کہ وہ میاں صاحب کے بیانئے سے متفق ہیں یا نہیں؟میاں صاحب کا مقصد واضح ہے وہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کی روائتی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ”میں یا میرا خاندان اقتدار میں نہیں آ سکتا تو کوئی دوسرا سیاستدان اقتدار کے مزے کیوں لے“۔ فوجی قیادت کو ٹارگٹ کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب حکومت پاکستان عدالتی فیصلے کے مطابق انہیں وطن واپس لانے کی کوشش کرے تو وہ برطانوی حکومت کو باور کرا سکیں کہ وطن واپسی پر فوجی قیادت میری تقریروں اور فوج مخالف بیانیے کی بنا پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنائے گی لہٰذا مجھے برطانیہ بدر نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اپنی تقریروں سے میاں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ میں موجود اپنے ہمدردوں اور خیر خواہوں کو شرمندہ کر ایا اور عمران خان کے موقف کو درست ثابت کیا کہ دونوں باپ بیٹی پر اعتماد کرنا، انہیں ملک سے باہر بھیجنا یا ان کے کسی وعدے، یقین دہانی پر اعتبار کرنا گھاٹے کا سودا ہے۔ سب سے زیادہ شرمندہ میاں شہباز شریف ہوں گے جو اپنے برادر بزرگ کے لئے دوبار وزارت عظمیٰ، انہیں مراعات دلانے کے لئے اپنی قربانی دے چکے۔ جن لوگوں نے علاج کے بہانے میاں صاحب کو جیل سے نکلنے میں مدد کی وہ آج سب سے زیادہ پشیمان ہوں گے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
بہرکیف گوجرانوالہ جلسے سے ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف کے خطاب نے ن لیگ کے اس خفیہ ایجنڈے کی نقاب کشائی کر دی ہے جو مسلسل ریاست پاکستان، ریاستی اداروں اور ریاستی مفادات پر حملے کے مترادف ہے۔ گوسابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی قومی اداروں سے محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں۔ وہ پچھلے تیس سال سے اپنی غیر جمہوری خواہشات کے لئے ان ہی اداروں اور ان سے وابستہ شخصیات سے معاملات کرتے رہے ہیں ،بد قسمتی سے ان کی طبیعت میں بادشاہت کی خواہش نے ریاستی اداروں سے ان کے تعلقات کو جمہوری سطح پرمضبوط نہ ہونے دیا۔ ان کی حکومت میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا۔ اپنے ہی لگائے گئے اداروں کے سربراہوں سے وہ کبھی خوش نہ ہوئے۔ ماضی میں اپنے تعینات کردہ الیکشن کمیشنر اور نیب چیئر مین سے وہ شاکی رہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں اپنے خلاف لگائے گئے الزمات کا وہ دفاع نہ کر سکے اور نااہل ہونے کے بعد عدلیہ پر چڑھ دوڑے۔ اب ریاست کے تما م آزاد ادارے ان کے نشانے پر ہیں۔ الغرض گوجرانوالہ جلسے میں تقریر آ بیل مجھے مار کی کلاسیکل مثال تھی، سیاستدان ایسی ہی حرکتوں سے فوجی مداخلت کی راہ ہموار کرتے اور پھر پچھتاتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ اس تقریر سے مرعوب اور متاثر ہو کر فوجی قیادت منت سماجت پراُتر آئے گی اور میاں صاحب کو ایک بار پھر اقتدارسنہری پلیٹ میںپیش کرے گی، فوج میں پھوٹ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش 1999ءمیں ہوئی تازہ کوشش میں میاں صاحب نے مسلم لیگ کے علاوہ دس جماعتوں کا کندھا استعمال کیا ، دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔لیکن یہ بات طے ہے کہ بھارتی میڈیا میاں صاحب کی تقریر کو پاکستانی فوج کے خلاف چارج کے طور پر پیش کر رہا ہے اور نواز شریف کی ایوان اقتدار سے بے دخلی کا ذمہ دار موجودہ آرمی چیف کو قرار دینے میں مگن، میاں صاحب کا بیانیہ اگر ہمارے ازلی دشمن بھارت کو سازگار ہے تو مسلم لیگ کے سنجیدہ فکر اور محب وطن عناصر بالخصوص ارکان اسمبلی کو سوچنا پڑے گا کہ وہ اپنے قائد کے بیانیے کا بوجھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔
اور رہی بات مولانا صاحب کی تو اُنہیں اس تحریک میں صرف استعمال کیا جا رہا ہے کہ کیوں کہ مولانا کی صدارت سے مجھے ایم آر ڈی کے نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم یاد آگئے۔ ضیاالحق دورمیں بحالی جمہوریت کے لیے چلائی گئی تحریک کے سربراہ کی ضرورت پڑی تو نوابزادہ نصراللہ خان کو سربراہ بنایا گیا اور ان کی سربراہی میں تمام پارٹیوں کو جوڑ کر بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی گئی۔ لیکن جمہوریت بحال ہونے کے بعد اصل سربراہی بڑی پارٹیوں کے حصے میں آئی۔ اقتدار کا ہما بڑی پارٹیوں کے سر پر ہی بیٹھتا ہے، جبکہ نوابزادہ نصراللہ کے حصے میں کشمیر کمیٹی کی سربراہی آئی۔لیکن اس بار مولانا کے حصے میں کشمیر کمیٹی بھی ملنے کی توقع نہیں ہے کیوں کہ اُن کی نظر اوپر کی سیٹوں پر ہے جو انہیں شاید آخری دم تک نصیب نہ ہوں!اور پھر 1977میں بھی پیر پگارا کو چیئرمین بنایا گیا تھا، یعنی ایسے بندے کو چیئرمین بنایا جاتا ہے جسے گرفتار کرنا حکومت کے لیے ذرا مشکل ہوتا ہے۔
لہٰذااپوزیشن کو جہاں سے بھی اشارے مل رہے ہیں وہ اس بات کا ضرور خیال رکھے کہ ریاست سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، ریاست ہے تو ہم سب ہیں اگر ریاست نہیں تو سیاست بھی نہیں ہوسکتی، اسی لیے نوازشریف بھی اپنی سیاست میں کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کے بجائے کریز کے اندر رہ کر بات کریں، اور اگر اُن کے حواریوں نے انہیں مزید اکسایا تو خدشہ ہے کہ اُن کا حال بھی بانی متحدہ سے مختلف نہ ہو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں