آل طورخم ٹرک لیبر یونین کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ، لوڈنگ انلوڈنگ کو افغانستان منتقل کرنے سے ہماری روزی چھین لی گئ ہے دوبارہ بحال کیا جائے مزدور یونین کا مطالبہ

طورخم میں کام کرنے والے 611رجسٹرڈ مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں ٹرانزٹ گاڑیوں کو لوڈ اور انلوڈ کرتے تھے جہاں پر ان کو کچھ رقم دی جاتی تھی تاہم چند مفاد پرستوں کو نہ دینے پر کسٹم حکام نے گاڑیوں کی لوڈ ان لوڈ کا سلسلہ افغانستان منتقل کر دیا ہے جس کی وجہ سے مزدوروں سے روزگار چھین لی گئی ہے اور 611رجسٹرڈ مزدوروں کے گھرانے فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں

آل طورخم ٹرک لیبر یونین کے صدر عزت شینواری کا کہنا تھا کہ ٹرانزٹ ٹرکوں کی پاکستان کے طورخم میں لوڈنگ ان لوڈنگ یہاں کے مقامی مزدوروں کے ذمہ تھی اور اسی علاقے کے بے روزگار افراد کو روزگار کا موقع مہیا تھا جہاں پر ان غریب گھرانوں کے مزدورکار خوش تھے جبکہ چند مفاد پرستوں نے ان سے رقم کی ڈیمانڈ کر دی جسے ٹھکرانے پر کسٹم حکام کو جگے کا بہانہ بنا کر یہاں سے افغانستان منتقل کر دیا جسکی وجہ سے نہ صرف یہاں کے مزدوروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ تاجروں کو بھی نقصان ہو رہا ہے
ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر دس ہزار کے قریب لوڈنگ ان لوڈنگ ہوتی تھی جبکہ افغانستان میں بارہ ہزار افغانی لئے جاتے ہیں جوکہ بیس ہزار روپے پاکستان سے بھی زیادہ ہے
انہوں نے کسٹم حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ان مزدوروں کا روزگار دوبارہ بحال کیا جائے ورنہ وہ طورخم میں نہ ختم ہونے والا احتجاجی دھرنا دینگے اور ساتھ ہی پاک افغان شاہراہ کو بھی بند کرینگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں