پارلیمنٹ سےبازارحسن تک سے لے کر ٹک ٹاک تک

کسی زمانے میں ایک کتاب آئی تھی جس کا نام تھا “پارلیمنٹ سے بازارِ حُسن تک اس کتاب میں پاکستانی سیاستدانوں کے سیاست میں آنے کے بعد پاکستانی قوم کے ٹیکس کے پیسوں پہ عیاشیوں اور دیگر شعبہِ ہائے زندگی جس میں نامور ادارکار، کھلاڑیوں، کاروباری حضرات وغیرہ کے کارنامے بھی درج تھے. یہ کتاب جتنی مقبول تھی اتنی ہی متنازعہ بھی، پاکستان سیاستدانوں کی تو اس کتاب کا نام سن کر ہی جان حلق میں آجاتی تھی، اس کتاب کو کڑی پابندیوں کا بھی سامنا رہا.

خیر وہ کتابوں کا دور تھا کچھ شرم و حیاء کا دور تھا، عزت چاردیواری میں تھی، طوائفیں اور تماش بین تھے بھی تو کوٹھے تک ہی محدود تھے اور کوٹھے اور طوائفیں بھی محدود، نیک و کار اور شرفاء کہلائے جانے والے مرد حضرات دنیا سے منہ چھتاتے ہانپتے کانپتے “رقص” دیکھنے جایا کرتے تھے. اکثر والدین بیٹی کے طوائف اور بیٹے کے تماش بین ہونے کا سن کر ہی غیرت سے مر جانا بہتر سمجھا کرتے تھے.

خیر ہر چیز میں جدت آگئی تو کوٹھوں نے بھی جدید ہونا تھا تو موبائل آگئے اور ٹک ٹاک، بیگو، جیسا کوٹھا گھر گھر پہنچ گیا. ناچنے والے اور تماش جو کل تک محدود تھے وہ لاتعداد ہوگئے، عمر کا لحاظ، خاندان کا لحاظ سب کچھ بالائے طاق رکھ دیا گیا کیونکہ وہ تو کوٹھے تھے یہ تو ایپ ہے وہ تو طوائفیں اور تماش بین تھے یہ تو “اسٹارز” اور “وویورز” ہیں. غیرت سے مر جانے والے والدین کی بچیاں اور بچے اب سارا دن ناچتے ہیں مگر معزز اور شرفاء ہی رہتے ہیں منہ نہیں چھپاتے غیرت سے مرتے نہیں کیونکہ اب جدت آگئی ہے ناں انہیں فخر محسوس ہوتا ہے کہ “ٹک ٹاکرز اسٹارز کے والدین ہیں.
کل تک کوٹھے پہ طوائفوں پہ پھینکے جانے والے پیسے حرام تھے مگر آج ماشاءاللہ بیٹا بیٹی دونوں ناچ کر اسٹار بن کر ٹک ٹاک کی کمائی سے بچوں کی گاڑی میں بٹھا کر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی کمائی ہے اسٹارز ہیں، بیٹا ماں کے سامنے ناچ رہا ہے بیٹی باپ کے سامنے ناچ رہی ہے پورا خاندان دیکھ رہا ہے مگر جدید کوٹھے پہ کسی کو اعتراض نہیں. کسی ٹک ٹاکر کے باپ یا بھائی سے کہو تمھاری بہن، بیٹی یا بھائی ناچتی، ناچتا ہے تو جان سے مار ڈالے گا لیکن کہو کہ ٹک ٹاک سٹار ہے تو چائے پلا کر بھیجے گا یہ خود اپنے آپکو دھوکا دینے والی بات ہے طوائف طوائف ہوتی ہے ناچنے والا بیٹا وہی میراثی ہی ہوتا ہے کوئی ٹک ٹاک پہ ناچے یا کوٹھے پہ جا کر.

جہاں کوٹھے کی کہانی گھر تک پہنچی ہے وہیں “پارلیمنٹ سے بازارِ حُسن تک” کی کہانی اب “ٹک ٹاک سے پارلیمنٹ”تک جا پہنچی ہے کل تک سیاہ دان اور معززین جو کوٹھے پہ جاتے پکڑے جاتے یا طوائفوں کے ساتھ نام جڑنے پہ شرم سے منہ چھپائے پھرتے تھے آج بہت فخر سے ناچنے والوں کو ان ایوانوں میں مدعو کرکے عزت افزائی کرتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں، فخر سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان طوائفوں سے نہ انکی عزت پہ حرف آتا ہے نہ ہی شرم محسوس ہوتی ہے.

ہمارے ایوانوں کو کبھی “مقدس” ایوان کہا جاتا تھا، آج ان کرسیوں پہ ان مقدس دفاتر میں ناچنے گانے والے جدید میراثی اور طوائفیں بناء کسی روک ٹوٹ کے جا کر براجمان ہو جاتے ہیں جن کرسیوں اور ایوانوں سے ہم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی اقدار اور اسلامی قوانین لانے کی امید رکھی تھی.

خان صاحب اور معزز عدلیہ سے درخواست ہے کہ خدارا اس ڈیجیٹل کوٹھے کو بند کیا جائے، ہمارے وزاء، ہمارے گورنر جن کے عالیشان دفتروں کے سامنے اس ملک کے پڑھے لکھے جوان بےروزگاری اور سرکاری دفتروں میں مارے مارے پھرنے کے بعد اپنی ڈگریوں کو آگ لگا کو خود سوزی کر لیتے ہیں، ہماری پڑھی لکھی عزت دار بہنیں، بیٹیاں اپنے حق حاصل کرتے عزتیں گنوا دیتی ہیں مگر ان مقدس ایوانوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ پاتی، ان بہنوں بیٹیوں اور ہمارے پڑھے لکھے جوانوں کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ تعلیم چھوڑیں ناچنا شروع کریں تاکہ ان مقدس ایوانوں تک رسائی ہو تاکہ انکی سنی جائے؟ اگر ایسا ہے تو ٹک ٹاک سکول اور یونیورسٹی بھی کھول لیں کیونکہ اگر ان مقدس ایوانوں اور ان مقدس ایوانوں میں بیٹھنے والے معزز عوامی نمائندوں تک پہچنے کے لیے طوائف اور میراثی ہونا ضروری ہے تو کل کو رش بڑھنے والا ہے پھر آپ لوگوں کو میراثی اور طوائفیں چننے میں مشکل ہوگی کہ کس کس سے ملاقات کریں.

اس لیے اس بےغیرتی کو وقت پہ ہی بند کیجیے تاکہ پڑھ لکھے جوان مایوس نہ ہوں، اگر طوائفیں ایسے ہی ہمارے ایوانوں میں گھومتی رہیں ہمارے وزراء ایسے ہی انکے پیچھے لٹو ہوئے پھرتے رہے تو نہ صرف گھر گھر کوٹھوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے بلکہ ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے. آخر میں والدین سے بھی گزارش ہے کہ ناچنے گانے والے اسٹارز نہیں ہوتے طوائفیں اور میراثی ہوتے ہیں بیٹی کے ناچنے کی کمائی پہ حقیقت سے نظریں چرانے سے حقیقت نہیں بدلتی. غیرت کھائیں بیٹی کے ناچنے کی کمائی نہیں. کسی کو میری باتیں بری لگی ہوں تو شوق سے انفرینڈ کرسکتا ہے یہ اسلامی ملک ہے یہاں مزید بےغیرتیاں برداشت نہیں ہوتیں.پڑھ کر شئیر کر دیجیے شکریہ
دفاع پاکستان کےسالار

جانباز ٹی وی پاکستان، سی ای او جان ایم رمضان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں