انٹیلیجنس -انٹیلیجنٹ لوگوں کا کام ہے عام تعلیم صرف ایک راستہ ہے،منزل نہیں ،تعلیم ہنر مند نہیں بناتی ڈاکٹر عبد القدیر خان ،ایک معمولی سا اپنڈکس کا آپریشن نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایک سرجن اپنی گاڑی ٹھیک کر سکتا ہے دنیا کی پیچیدہ ترین تعلیم ہے انٹیلیجنس ،یہ کام کیسے ہوتا ہے ،کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے ،یہ عقل سے سمجھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تعلیم اس کا احاطہ کر سکتی ہے ،

Intelligence , No 1 #ISI

انٹیلیجنس –
انٹیلیجنٹ لوگوں کا کام ہے
عام تعلیم صرف ایک راستہ ہے،منزل نہیں ،تعلیم ہنر مند نہیں بناتی ڈاکٹر عبد القدیر خان ،ایک معمولی سا اپنڈکس کا آپریشن نہیں کر سکتا
اور نہ ہی ایک سرجن اپنی گاڑی ٹھیک کر سکتا ہے
دنیا کی پیچیدہ ترین تعلیم ہے انٹیلیجنس ،یہ کام کیسے ہوتا ہے ،کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے ،یہ عقل سے سمجھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تعلیم اس کا احاطہ کر سکتی ہے ،اور نہ دانشوری سے غلط یا صحیح ثابت کیا جا سکتا ہے جاسوسی ایک انتہائی مشکل کام ہے یہ بارڈر پر ٹینک کا گولہ چھاتی پر کھانے سے بھی مشکل ہے یہ ایک ایسی گمنام زندگی ہے ،جس کا کسی کو ادراک بھی نہیں ہو سکتا ،مجھے پاکستانی پڑھے لکھے دانشوروں کے دلائل حیرت میں ڈال دیتے ہیں یا انکو علم نہیں یا پھر پڑھے لکھے جاہل ہیں
انٹیلیجنسی نوکری نہیں ،پیشہ نہیں ،ذریعہ معاش نہیں ہر لمحہ ایک مشن کا نام ہے
اور یہ بڑے با کمال لوگ ہوتے ہیں چونکہ ان کی داستانیں فلموں کی طرح لکھی نہیں جاتیں ،اور نہ جنگجوؤں کی طرح بیان کی جاتی ہیں ،اس لیئے لوگ یہ سمجھتے ہیں ،یہ بھی ایک نوکری ہے جسکی لوگ تنخواہ لیتے ہیں
یہ واحد کام ہے جس کی تنخواہ بندہ خود نہیں لیتا ،ہمارا ایک جاسوس تین سال خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح کے مزار پر ملنگ بن کر رہا ،ادھر سے ہلا نہیں ،کھاتا لنگر سے اور سوتا زمین پر تھا ،آخر اسے انڈین انٹیلیجنس نے پکڑ لیا ،بہت مارا ،اتنا مارا کہ اس کے اندر سےخون بہنا شروع ہو گيا ،جب انہیں یقین ہو گيا کہ اب یہ زندہ نہیں رہے گا تو پھینک دیا ،اسے دہلی پاکستانی سفارت خانے لایا گيا ،علاج ہوا اور ٹھیک ہوا اب ہر تعلیم یافتہ یہی سوچے گا ،انہوں نے اسے قتل کیوں نہیں کیا 🤔
تو جناب اگر وہ قتل کرتے تو انکا ایک ایجنٹ یا سفارت کار ادھر قتل ہو جاتا ،اور اگر اسے ملک سے ناپسندیدہ کہہ کے نکالتے تو پاکستان انکا ایک نکال دیتا ،جو ہو سکتا ہے بہت اہم کام کر رہا ہو ،روزانہ لاکھوں لوگ کراچی جاتے اور آتے ہیں ،اب ان میں ایک جاسوس بھی گھس جائے تو کسی کو کیا پتہ کون ہے اور کدھر ہے
اب ایک آدمی جو اسرائیل سے ٹرینگ لیتا ہے ،پشتو سیکھتا ہے ،سارے طور طریقے سیکھتا ،جب مکمل ٹرینڈ ہو جاتا ہے تو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے ،پاکستانی پشتون لباس میں ،پشتو پٹھانوں کی طرح بولتا ہے لباس انہی کی طرح پہنتا ہے ،نسوار تک کھاتا ہے قہوہ پیتا ہے ،کباب کھاتا ہے ،پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے ،حلیئے سے بھی پاکستانی لگتا ہے ،اور یہاں کام کرنا شروع کر دیتا ہے ،خود کش حملے کرواتا ہے ،پہلے موجود ایجنٹوں کے ساتھ رابطے کرتا ہے بنوں میں موجود ایک یہودی جو عالم بنا ہوا تھا سے مدد لیتا ہے جو وہاں وہاں دس سے مسجد اور مدرسہ چلا رہا ہوتا ہے ،پولیس پر ،فوج پر ،سیاستدانوں پر ،شہریوں پر حملے کرواتا ہے ،ملکی ادارے اس گمنام جاسوس کو ڈھونڈھتے ہیں ،کہ دھماکہ ہوا کیا تو اس نے کروایا کس نے جب مدرسے پر آدھی رات کو چھاپا پڑتا ہے تو مولوی بھاگ جاتا ہے،اور لوگوں کو کہتا ہے یہ دھماکے آئی ایس آئی کرواتی ہے ،اور فوج پٹھانوں کی دشمن ہے ،لوگ بھی سوچتے ہیں جو بندہ ہمیں قرآن اور حدیث پڑھاتا رہا وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے ،اس مولوی کے مسجد کے تہہ خانے سے کیمپیٹر اور تمام ریکارڈ قبضے میں لیا جاتا ہے ،اسے ڈیکوڈ کیا جاتا ہے ،اور جب اسکے ساتھیوں کی تلاش شروع کی جاتی ہے ،تو پتہ چلتا ہے مولانا صاحب تو کابل سے دوبئی فرار ہو چکے ہیں اور وہاں سے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے ،باقی سارے آپریٹر بھی بھاگ جاتے ہیں
لیکن ایک چھپتا رہتا ہے اور اپنا کام جاری رکھتا ہے بے پناہ پیسہ اس کے پاس ہوتا ہے ہر جگہ رشوت لینے والی انتظامیہ کو خوش کرتا رہتا ہے ،لیکن ایک جاسوس جو اسے پہچان لیتا ہے ،اور مقامی پولیس سے مدد مانگتا ہے ،لیکن کسی نہ کسی طریقے سے پیسوں کے زور پر انٹیلیجنس فورس کے پہنچنے سے پہلے فرار ہو جاتا ہے ،اور کابل کے راستے امریکا بھاگ جاتا ہے امریکی ادارے اسکے کام سے بہت خوش ہوتے ہیں اور پاکستانی سفیر کو کہتے ہیں ،جتنی سہولت چاہیئے لے لو جتنے ڈالر چاہیئیں لے لو ،کسی طریقے سے یہ بندہ پاکستان میں دوبارہ بھجوا دو سفیر صاحب اسکو لا محدود ویزہ عطا فرماتے ہیں ،اور پاکستانی وزیر داخلہ کو کہتے ہیں ،اس بندے کو رن وے سے ہی گاڑی میں ڈالو اور لاہور امریکی سفارت خانے پہنچا دو
بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے ،اور پھر چند ہفتے بعد دھماکے شروع ہو جاتے ہیں ،وہی کام کہ کون کرواتا ہے پتہ چلتا ہے وہی بندہ ہے لیکن اب —– خان کے نام سے نہیں ریمنڈ ڈیوس کے نام سے کام کر رہا ہے ،نگرانی شروع ہوتی ہے ،،کوئی بھی ملک جس کو ویزہ دے دے وہ ایک معاہدہ سمجھا جاتا ہے ،اسکو کینسل آسانی سے نہیں کیا جا سکتا ،اگر اسے نکالتے ہیں تو اس کے بدلے ایک انتہائی آدمی امریکا سے باہر کر دیا جائے گا ،قید آپ اسے نہیں کر سکتے ،سزا اسے نہیں دے سکتے بھائی آپ کی سلطنت نے اسے تحفظ کا لکھ کر دیا ہے
یہ پاکستانی پولیس نہیں کہ چرس میں اندر کردو ،سمگلنگ ڈال دو ،جعلی اسلحہ ڈال دو اور اندر کر دو ،کسی غیر ملکی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا
پھر کیا حل ہے ،نکال آپ نہیں سکتے ،قید آپ نہیں کر سکتے گولی آپ نہیں مار سکتے ، تو اگر وہ عقل مند ہیں تو کیا اور لوگ نہیں ہو سکتے
پھر اسکے پیچے دو بندے لگا دیئے جاتے ہیں ،وہ جونہی ایمبیسی سے نکلتا ہے
وہ موٹر سائیکل پر اسکے پیچھے ،وہ بندا اپنی تمام چالاکیوں اور ہوشیاری کے باوجود مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ،اسکے مالک ریزلٹ مانگتے ہیں ،دھماکے کرواؤ ،وہ ہل نہیں سکتا ،جو اسے ملنے جاتا ہے دو بندے اسکے پیچھے لگا دیئے جاتے ہیں ،جس ورکشاب میں بظاہر ایک مستری جو کہ مقامی ہے اور اس کے لیئے کام کرتا ہے
اسے بارودی مواد گاڑی میں فٹ کرنے کے الزام میں اندر کر دیا جاتا ہے ،ہر اسکا مقامی ساتھی یا غائب کر دیا جاتا ہے یا گرفتار
وہ بندہ بلکل پاگل ہو جاتا ہے
اور دو بندوں کو کہا جاتا ہے بس اسے ڈراؤ ،یہ سمجھے کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں وہ خوف ذدہ ہوکر اور زج ہو کر انہیں قتل کر دیتا ہے ،گرفتار ہوتا ہے ،اسرائیل اور امریکا کو غشی کے دورے پڑتے ہیں ،امریکی صدر ٹی وی پر اسے ڈپلومیث کہتا ہے سارے بیک اور فرنٹ ڈور سارے کھل جاتے ہیں خزانوں کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں ،ویسے بھی انکا ایک روپیہ ہمارے 104 کے برابر ہے
جان کیری دوڑتا آتا ہے امریکی جنرل جو افغانستان میں ہے وہ بھاگآ بھاگآ آتا ہے
وہ جاہل جو کہتے ہیں ہم امریکا کے غلام ہیں ،تو آقا غلام کے پاس نہیں آتا علام کو سمن جاری کرتا ہے انٹیلیجنس کا کام انٹیلیجنس والے ہی کرتے ہیں ،کیری کو کہا جاتا ہے سی آئی اے چيف کو بھیجو ،سی آئي اے چيف براسطہ افغانستان آدھی رات کو چکلالہ ایرپورٹ پر اترتا ہے ،ڈی جی آئی ایس آئی سے ملتا ہے
پہلا مطالبہ جتنے ایجنٹ ہیں انکی لسٹ دو ،وہ بہت اوں آن کرتا ہے اور آخر کار 3600 لوگوں کی ایک لسٹ دیتا ہے آپ لوگوں کو یاد ہوگآ زرداری دور میں چار بیریکیں امریکی اسلام آباد کے سفارت خانے میں تعمیر کی گئي تھیں ،پھر امریکا انتنا مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ 3300 لوگ واپس نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے ،انہی دنوں جھنگ باہتر کے قریب ایک پل پر ایک غیر ملکی کالا چٹا پہاڑ کی فوٹو گرافی کر رہا ہوتا ہے جسے سنائپر گولی مار دیتا ہے ایک کہوٹہ کے پاس قتل کر دیا جاتا ہے امریکا مذید دباؤ میں آ جاتا ہے
امریکا فوجی ،مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے پاؤں پکڑتا ہے
فوجی قیادت کہتی ہے ہمیں ایف سولہ کیلئے نائٹ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے والی کٹس چاہیئے ،امریکا بمشکل مان جاتا ہے ،یاد رہے یہی وہ کٹس تھیں جنہوں نے زیر زمیں بنکر وزیرستان میں تباہ کیئۓ ،اور صفایا کیا ٹی ٹی پی کا ،ایک مسلح گروہ جو امریکا جیسے ملک سے 10 سال میں قابو نہیں آیا ،چند مہینوں ختم کر دیا گيآ
نقد پیسے بھی سی آئی آے نے دیئے جو پھر انہیں کے خلاف استعمال ہوئے
نیوی کیلئے میزائیل ،آرمی کیلئۓ ٹارگٹ ڈیٹکٹرز اور لا تعداد اسلحہ جو صرف ایک جاسوس کے عوض ملا ،یہ سودا پیسوں کیلئۓ نہیں
ہزاروں پاکستانیوں کی جان بھی بچائی گئي ،اس نیٹ ورک ٹوٹنے کے بعد لاہور
میں کوئی بڑا دھماکہ نہیں ہوا
اگر انسانی جان کی قیمت وہ ہے جو تم لوگ لگاتے ہو تو پھر بارڈر سے فوج بھی ہٹا لو کیونکہ وہاں مر جاتے ہیں ،وطن کے بیٹے وطن کیلئے قربانی دیتے ہیں
جن دو نے قربانی دے کر ہزاروں کی جان بچائی وہ ہیرو ہیں

وطن کے سپاہی وطن کی امانت ہوتے ہیں
انٹیلیجنس میں ایک جان دے کر سینکڑوں جانیں بچائی جاتی ہیں

وطن کے سپاہی وطن کی امانت ہوتے ہیں
انٹیلیجنس میں ایک جان دے کر سینکڑوں جانیں بچائی جاتی ہیں

🤺سفید داڑھی والے🤺
🏹⚔️اکبر⚔️🏹

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں