تم ہی راہ راست پر ہو ، آئی ایس آئی

تم ہی راہ راست پر ہو

آج آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید ہیں اور جنرل باجوہ افواج پاکستان کا سپہ سالار ہے۔اس ملک کی عوام کبھی نہیں بھولی ہو گی کہ … ایس ایس جی کے حوالدار زرک خان اور محمد رفیق نیازی، رب نواز، قدرت اﷲ شہید جب وطن دشمن دہشت گردوں کے بنائے گئے حصار میں کودے ہوں گے تو کیا اس لمحے ان کے دلوں میں اپنے جوان ہوتے ہوئے بچوں کا خیال نہ آیا ہو گا ؟جنرل ہیڈکوارٹر سے ملحقہ ایک کمرے میں یرغمال بنائے گئے 39 افراد کی زندگیاں بچانے کے لئے جب ایس ایس جی کے یہ کمانڈو جس لمحے وطن دشمنوں کے بچھائے ہوئے آگ کے سمندر میں داخل ہوئے ہوں گے تو کیا انہیں سفید داڑھیوں اور جھریوں والے اپنے ضعیف باپ نظر نہ آئے ہوں گے؟کیا انہیں سفید چادروں میں لپٹی ہوئی اپنی ماؤں کی ٹھنڈی آنکھوں کا سُرور اور ممتا کی گرم گرم باہوں کا لمس محسوس نہیں ہوا ہو گا؟ کیا انہیں دُور گھروں میں انتظار کرتی ہوئی کھنکناتی چوڑیوں والی اپنی شریک حیات یاد نہ آئی ہوں گی؟…. آگ اور خو دکش بمبار کے تباہ کن بارود سمیت گولیوں کی پہلی بو چھا ڑ میں انہیں سب کچھ یاد آیا ہوگا اور اس وقت ان کی آنکھوں کے سامنے ننھے منے ہاتھ پھیلائے اپنے معصوم بچوں کی کلکاریاں مارتی ہوئی آوازیں اور ان کے اپنی طرف دیکھتے ہوئے معصومانہ چہرے بھی بار بار گھومے ہوں گے اور چھٹی پر گھر واپس جاتے ہوئے ان کی فرمائشیں بھی یاد آئی ہوں گی۔ جب کیپٹن بلال ظفر کیپٹن عمران، میجر عابد مجید اور لیفٹیننٹ عاطف قیوم ، لیفٹیننٹ علی شہید سوات کے آپریشن راہ راست کے سفر میں موت کی وادیوں میں اترے تھے تو ان کے سامنے دنیا کی ہنستی مسکراتی اور تمام سہولتوں سے بھر پور پرکشش زندگی تھی لیکن وہ عہد جو وہ کاکول میں‘ مردان میں اور چراٹ میں خاکی وردی پہنے سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے اپنے اﷲ سے کرتے ہیں وہ عہد انہیں دنیا کی ہر رنگینی سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اﷲ کو گواہ بنا کر پاکستان کی عزت پر مر مٹنے کی قسم انہیں دنیا کے ہر رشتے سے آزاد کر دیتی ہے۔ اس وقت ان کے دلوں میں فقط اﷲ کی عظمت و کبریائی کی روشنی ان کی رہنمائی کر رہی ہوتی ہے۔ وہ عظمت جس کے سائے میں وہ سانس لیتے ہیں۔ وہ عظمت جس کا وہ ورد کرتے ہیں کاکول، مردان کی طرح جب آپ چراٹ چھاؤنی کی حدود میں داخل ہوں تو چار ہزار فٹ سے زائد بلندی پر قائم پر شکوہ مسجد کے مینار آسمان کی بلندیوں کی طرف اُٹھتے نظر آتے ہیں۔ یہی چراٹ کا وہ ہیڈ کوارٹر ہے جس کے سائے میں یہاں تربیت پانے والے جانباز ہر وقت اﷲ کی وحدانیت کے آگے سر جھکا ئے رہتے ہیں۔اس چھاؤنی کی حدود میں ہر طرف ’’اﷲ ہو اﷲ ہو‘‘ کی سرسراہٹ جسموں میں سرائت کرتی ہے یہی وہ سرسراہٹ ہے جو حوالدار زرک خان اور محمد رفیق جیسے ہزاروں جانبازوں کو نمرود کی بچھائی ہوئی آگ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ اے اہل وطن کبھی تصور میں جیتے جاگتے انسان کو ذبح ہوتے دیکھاہے‘ کبھی گردن پر چلنے والی چھری کا احساس ہوا ہے…نہیں ہوا ہو گا ایک ہلکی سوئی کو اپنی انگلی میں چبھو کر دیکھو…اپنی انگلی پر بلیڈ کی دھار کو ہلکا سا دبا کر دیکھو…تمہیں احساس ہو گا بھارت کے وفاداروں نے بھارت کے تنخواہ داروں نے کس طرح لا الہ الا اﷲ کا ورد کرنے والے مسلمان بچے ذبح کئے …. وقت ذبح ان سب بچوں پر کیا بیتی ہو گی ان کی کیا حالت ہوئی ہو گی

وہ جان کنی کا سماں لا الہ الا اﷲ

شہیدوں کی وہ اذاں لا الہ الا اﷲ

وہ ان کا سجدہ آخر وہ حق سے راہ و نیاز

لہو سے اپنے وضو صبح قتل کی نماز

جس طرح اﷲ سبحان تعالیٰ نے مجاہدوں کے گھوڑوں کے سموں کی اڑتی ہوئی دھول کی قسم کھائی ہے۔ میں فوجی بوٹ پہنے ہوئے پاکستان کی حفاظت کرنے والے ان شہیدوں اور غازیوں کے پاؤں کی دھول کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ فوج کو بدنام کرنے والے عناصر وطن کی حفاظت کے لئے جان دینے والے افسروں اور سپاہیوں کے جوتوں کی دھول کے برا بر بھی نہیں ۔۔۔۔۔آپریشن راہ راست میں جو سجدہ شبیری کی پیروی کرتے ہوئے وطن دشمنوں کے ہاتھوں ذبح ہوئے‘ مجھے قسم ہے ان کے لہو کے ایک ایک بوند کی کہ ’’ شہادت ان کی میراث ہے‘‘ ان سے کوئی شکوہ نہیں جو ہماری فوج سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں۔ سالہا سال سے ان کے ہاتھ اور زبا نیں پاک فوج کی کردار کشی میں بے حال رہے ہیں۔ وہ اس فوج کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں جن کی دوستی ان کی مقابل بھارتی فوج سے ہے …..ان کی ’’کمانوں سے چھوڑے گئے تیروں‘‘ سے شہیدوں اور غازیوں کے جسم نہ جانے کب سے چھلنی ہو رہے ہیں …. پشاور یا پاکستان کی کسی مارکیٹ اور با زار میں کسی کام کیلئے گھریلو ضروریات کی خریداری کے لئے اپنے اور گھر کے کسی فرد کے علاج کے لئے با ہر نکلنے والے جب بم دھماکوں کا نشانہ بنتے ہیں یا کسی سیکیورٹی چیک پوسٹ یا کسی ناکے پر کھڑے ہوئے بچے بچیوں کو سکول سے لانے کے لئے کسی بس یا ویگن کو جب بارودی سرنگ اور بم دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے تو کیا ان سفاک اور خونخوار درندوں اور ان کے مخبروں کو دیکھ کر ہماری تمام سیکیورٹی فورسز چپ رہیں‘ ان کی کمین گاہوں تک ان کاپیچھا نہ کریں انہیں آزاد چھوڑ دیں اور ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے کیا یہ کہا کریں کہ’’ہم امن کے داعی ہیں تم ظلم بڑھاتے جاؤ‘‘۔

میرے پاک وطن کے پاک شہیدو‘ آپ کے بارے میں جس نے جو بھی کہا ہے اسے بھول جاؤ… تم شہید ہو کیونکہ تم نے لا الٰہ کے نام پر بننے والے ملک کی حفاظت کی قسم کھائی ہے۔ تم شہید ہو کیونکہ تم ایک لاکھ سے زائد کشمیر کی بیٹیوں کی عصمتوں کو لوٹنے والوں کے ساتھ نبرد آزما ہو۔ تم شہید ہو کیونکہ تم پاکستان کی ایک ایک مسجد کے نگہبان ہو۔ تم شہید ہو کیونکہ تم نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کی اذان ہو …میری جان سے پیاری سپاہ وطن کسی بھی قسم کے زہریلے پراپیگنڈے سے محتاط رہنا‘ہوشیار رہنا اور وطن کی حفاظت کے لئے اپنے اٹھنے والے قدم ’’راہ راست‘‘ کی طرح بڑھائے رکھنا

ہوشیار کہ گرِ جائیں نہ قلعوں کی فصیلیں

عقابوں کے نشیمن پر قابض نہ ہوں چیلیں

لٹ جائیں نہ کوثر و زم زم کی سبیلیں

چھن جائیں نہ دریا تیرے چشمے تیری جھیلیں

اے مرد جوان، مرد جواں، مرد جواں دیکھ

سوات، دیر،مالا کنڈ اور مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان بھر کی سڑکوں، مارکیٹوں، بازاروں اور راستوں میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے پولیس‘ ایف سی‘ خاصہ دار فورس اور لیویز کے وہ شہیدان وطن جن کا کہیں ذکر ہی نہیں ان سب کو سلام اور پاکستان کے معصوم بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں، ماؤں اور بہنوں سمیت ان پچاس ہزار سے زائد گمنام شہیدان وطن کو سلام جو کسی بھی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلے اور دشمن کے سدھائے ہوئے دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے

🤺سفید داڑھی والے🤺
🏹⚔️اکبر⚔️🏹

شہباز گل صاحب، فائل فوٹو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں