آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے اور سوشل میڈیا کی دنیا خاصی حد تک رنگین ہے یہاں آپ کو سنبھل سنبھل کر چلنا پڑتا اگر زرا سی بے احتیاطی ہوئی تو آپ اندھے دریا میں گرجائیں گے سنبھلنے تک پانی کناروں سے باہر جا نکلتا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر پاک آرمی اور آئی ایس آئی کے سیکرٹ ایجنٹس کی بھرمار ہے جو کبھی دہلی فتح کررہے ہوتے ہیں اور کبھی اسرائیل میں خفیہ مشن پر موجود ہوتے ہیں ابھی یہ خبر پھیل رہی ہوتی کہ پتا چلتا ہے سیکرٹ ایجنٹس سعودی عرب پہنچ گئے تعلقات بحال کرنے اب کون سے تعلقات ہیں یہ سمجھنے سے میں کم از کم قاصر ہوں بہت سے لڑکے لڑکیاں فیسبک پہ خود کو لیفٹننٹ کیپٹن میجر ظاہر کرتے ہیں یعنی مبالغہ آرائ کی حد ہوگئ کہ ڈیوٹیز چھوڑ کر وہ اتنے ویلے ہیں کہ فیسبک پہ آکر لڑکیوں سے گپیں لگائیں لڑکیوں کی پوسٹ پہ جاتے ان کو امپریس کرتے۔ اور ہماری حسینائیں بھی کچھ کم نہیں ہوتی وہ بھی دیوانہ وار ان افسران کی وال اور پوسٹس کے چکر کاٹ رہی ہوتی ہیں۔

بات صرف یہاں تک نہیں رکتی آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے معاملات آگے بڑھتے ہیں پوسٹ کمنٹ سے ترقی ہوتے ہوتے انباکس یعنی میسینجر میں جاتے پھر واٹس ایپ اور سیل نمبر کا تبادلہ ہوتا اس کے بعد لاتعداد کالز اور تصویریں لی دی جاتی ہیں۔ یعنی خود کا بھی جینا حرام گھر والوں پہ بھی انی مچائی ہوئی ہوتی ہےپاکستان کی عام عوام جو اپنے ہیروز، فوجیوں اور آئی ایس آئی سے پیار کرتی ہے ان کو ایسے نام نہاد آفیسرز اپنی باتوں میں لاکر بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں۔

ہمارے یہ فیک ہیروز خود کو آفیسرز ظاہر کرکے حسیناؤں کے کئ نجی کام اپنے ذمے لےلیتے ہیں۔آپ میں سے کتنے لوگ سوشل میڈیا پہ آتے ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آئی ایس آئی یا فوج سے ریلیٹڈ لوگ اتنے ویلے نکمے نہیں ہیں کہ آپ سے گپیں مارتے رہیں آئی ایس آئی دنیا کی نمبر ون ایجنسی کیا اتنی ویلی ہے اور کوئی کام نہیں کہ حسینوں ماہ جبینوں سے تصویریں لیتے رہیں ان سے باتیں کریں ان کی محبتوں کا دم بھرتے رہیں۔

جس آئی ایس آئی نے دنیا کی تمام جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے دشمن کو اپنا زیر کیا اور لپیٹ کر رکھ دیا ہےوہ آئی ایس آئی سوشل میڈیا پہ اپنی عوام سے چند ہزار روپے کا مطالبہ کرے گی ارے جس آئی ایس آئی کو دیکھنا دنیا کی سپرپاوروں اور باقی دنیا کو نصیب نہیں ہوا ان کے کیپٹن عام عوام سے رابطہ کریں گے ۔

ان تمام لوگوں سے گزارش ہے جو اپنے ہیروز اور جوانوں سے پیار کرتے ہیں سوشل میڈیا پہ کوئی بھی جانباز آپ کے سامنے خود کو ظاہر نہیں کرے گا کبھی کیونکہ ان کا جو مقصد ہے وہ اس پہ کام کرتے ہیں باقی رہی فیک کیپٹن میجر صاحبان کی بات تو خدارا ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں ان میں اگر شرم نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ ایسی حرکات ہی نا کرتےپھر کان کھول کر سن لو کہ ایسے لوگ نا آرمی سے بھاگ سکتے نا آئی ایس آئی سے نا کسی اور ایجنسی سے بھاگ سکتے ہیں

خواب خرگوش میں ایسے لوگ سوتے ہیں ہمارے جانباز نہیں سوتے نت نئ کہانیاں بناکر کبھی اس مشن پہ کبھی اس ملک کبھی دوسرے صرف عوام کو بےوقوف بنا سکتے ہیں آئی ایس آئی والوں کو نہیں نا ہی آرمی والوں کویہ جتنے بھی فیک سیکرٹ ایجنٹس ہیں یہ سمجھ رہے ہوں گے ہم دوسروں کو بےوقوف بنا رہے ہیں ہوسکتا ہے جسے وہ بےوقوف بنارہے ہوں وہ آگے سے کسی ایجنسی کا بندہ ہو یعنی دوسروں کےلئے بچھائے گئے جال میں خود پھنس رہے ہوں۔

سوشل میڈیا میں اچھے لوگ بھی ہیں لیکن ان اچھے لوگوں کے پاس ایسے فضول کاموں کے لیے وقت نہیں میری تمام بہنوں اور بیٹیوں سے دلی التماس ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ایسے بھیڑیوں سے اپنی حفاظت خود کریں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں سوشل میڈیا کے بھی دو چہرے ہیں مثبت اور منفی یہاں بہت سا کام مثبت بھی ہوتا ہے اس لئے اپنا بھی خیال کریں اور ساتھ دوسری بہنوں کو بھی وقتاً فوقتاً سمجھاتی رہا کریں ورنہ جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا تو پھر صرف رونے پچھتانے کے علاؤہ کچھ نہیں بچتا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سب بہنو اور بیٹیوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین

Janbaaz Tv Pakistan 🇵🇰

افواجِپاکستانپائندہ_باد

مارخور 🦌🇵🇰

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں