رب العالمین نے اپنے بندوں کو خاص بات کیا فرمائی؟

اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْــمِ اللّٰــہِ الرَّحــمٰنِ الرَّحِــیْمِ

وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِؕ- وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ (آل عمران ۱۸۹)

ترجمہ: اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر: اس آیت میں ان گستاخوں کا رد کیا گیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے۔ ان کے رد میں فرمایا گیا کہ جو زمین و آسمان کے دائرے میں آنے والی ہر چیز کا مالک ہے اس کی طرف فقر کی نسبت کس طرح کی جاسکتی ہے۔
(تفسیر خازن ج۱ / ص۳۳۵)

اللہ تعالیٰ کی شان:
یہاں ہم اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان سے متعلق ایک حدیثِ قدسی ذکر کرتے ہیں جس سے ان گستاخوں کی جہالت اور اللہ تعالیٰ کی شان مزید ظاہر ہوتی ہے، چنانچہ
حضرت ابو ذر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کردیا لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! جسے میں ہدایت دوں اس کے علاوہ تم سب گمراہ ہو، اس لئے تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! جسے میں کھلاؤں اس کے سوا تم سب بھوکے ہو، تو تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! جسے میں لباس پہناؤں اس کے علاوہ تم سب بےلباس ہو لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب رات دن گناہ کرتے ہو اور میں گناہ بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو۔ اے میرے بندو! تمہارے پہلے اور آخری، تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میرے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر تمہارے پہلے اور آخری، تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میرے ملک سے کوئی چیز کم نہیں کرسکتے اور اے میرے بندو! تمہارے پہلے اور آخری، تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کررہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزاء دوں گا تو جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کو خیر کے سوا کوئی چیز (جیسے آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔
(مسلم شریف ص ۱۳۹۳ حدیث ۵۵ (۲۵۷۷))

واللـــہ تعـــالیٰ اعـــلم ورســـولـہ ﷺ اعـــلم

Janbaaz Tv Pakistan Cricket Team 🏏

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں