احتساب عدالت اسلام آباد کے سابق جج ارشد ملک کورونا کے باعث انتقال کر گئے۔۔

رپورٹ، جانباز ٹی وی پاکستان

ارشد ملک ایک ہفتے سے وینٹی لیٹر پر تھے

ذرائع کے مطابق ارشد ملک اسلام آباد کے شفا اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ ایک ہفتے سے وینٹی لیٹر پر تھے، خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ مندرہ میں ادا کی جائے گی۔ ارشد ملک کے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں قائم 7 رکنی انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں جج ارشد ملک کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انہیں باعزت بری کیا گیا تھا۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے گذشتہ برس 6 جولائی کو لاہور میں پارٹی کی سینیئر قیادت کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کی تھی۔ نیوز کانفرنس میں انہوں نے نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا سنانے والے نیب عدالت کے جج ارشد ملک اور نوازشریف کے قریبی ساتھی ناصر بٹ کی خفیہ کیمرے سے بنی ایک مبینہ ویڈیو دکھائی تھی۔
مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں عدالتی فیصلے کو سچ کی فتح اور جھوٹ کی شکست قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس فیصلے سے نواز شریف پر ہی نہیں بلکہ عدل و انصاف کے دامن پر لگا ایک بڑا داغ دھویا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے عدالتی فیصلے پر رد عمل میں ٹویٹ کیا کہ جج ارشد ملک کی برطرفی اس دور کا ڈراپ سین ہے جب ججز کو حواریوں کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں